اسرائیل نے مغربی صحرا پر مراکش کی خودمختاری تسلیم کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش نے پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیل نے متنازع علاقے مغربی صحرا پر اس کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ وہاں ایک قونصل خانہ کھولنے پر غورکر رہا ہے۔

مراکش کے شاہی محل سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے شاہ محمد ششم کو لکھے گئے ایک خط میں اسرائیل کے اس مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ مغربی صحرا میں ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ 2020 میں، سابق صدرامریکا ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو جزوی طور پر بہتر بنانے کے بدلے میں مراکش کے اس متنازع علاقے پر دعوے کو تسلیم کیا تھا۔

مراکش کے شاہی محل کے بیان میں خط کے حوالے سے کہا گیا ہے:’’ اسرائیل کے مؤقف کو اقوام متحدہ ، علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کو بھیجا جائے گا،اس کے علاوہ ان تمام ممالک کو بھیجا جائے گا، جن کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات استوار ہیں‘‘۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ مراکش کی عمل داری تسلیم کرنے کے حصے کے طور پر ، اسرائیل الداخلہ شہر میں ایک قونصل خانہ کھولنے" پر غور کر رہا ہے۔

ایک سینیر سرکاری عہدہ دار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مغربی صحرا کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف 'واضح' ہے اور یہ مراکش کے حق میں ایک تحریک کا حصہ ہے، جب واشنگٹن اور میڈرڈ کے علاوہ دیگر یورپی دارالحکومتوں نے اس علاقے پر اس کی خودمختاری کے منصوبے کی حمایت کی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے مغربی صحرا پر عمل داری تسلیم کرنے کے باوجود تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کے دفاع میں مراکش کے 'اصولوں' پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں