الصدر کا مذہبی شعائر کی توہین کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے سرکردہ شیعہ سیاسی اور مذہبی رہ نما اور الصدر تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدرنے نامعلوم جماعتوں پر تشدد اور ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے اہل تشیع کو آپس میں لڑانے کا الزام عاید کیا ہے۔ انہوں نے عراقی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات کو دور کرنے کے لیے مذہبی علامات ، شعائر اور علماء کی توہین کو جرم قرار دینےکےلیے قانون سازی کرے۔

الصدر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "کچھ نفرت انگیز جماعتوں نے ہمارے مراکز کے خلاف تشدد اور ہتھیاروں کا استعمال کرکے شیعہ فتنہ پھیلانے میں عجلت دکھائی کی ہے۔ کچھ ایسی جماعتیں ہیں جو دنیاوی فائدے کے لیے خون بہانے اور فتنہ پھیلانے سے دریغ نہیں کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے آپ کو پہلے خبردار کیا تھا کہ جنگ نظریاتی ہو گی، اس لیے جنگ ہر گز خونی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نظریاتی اور مذہبی طور پر حرام ہے۔"

انہوں نے کہا کہ"اگر غیر منصفانہ یا بغیر کسی تعمیری وجہ کے علماء کی توہین کو جرم قرار دینے کے لیے کوئی قانون نافذ نہیں کیا جاتا ہے تو ہمارے پاس تشدد سے بہت دور راستےبھی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ"پارلیمنٹ کے گنبد کے نیچے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے کچھ پارلیمانی سیاسی قوتوں کی میٹنگ سے بغاوت کو کم کرنے کی امید ملتی ہے۔"

جب عراق میں صدرتحریک کے مشتعل حامیوں نے ہفتے کی رات کئی عراقی گورنریوں میں دعوہ پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا اور بند کر دیا تھا۔

السامریہ نیوز کے مطابق اتوار کی صبح ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم عناصر نے نجف میں پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کو آر پی جی کے ذریعے نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں