رہائش گاہ پر بمباری کے وقت سابق سوڈانی صدر عمر البشیرنماز ادا کررہے تھے: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معزول سوڈانی صدر عمر البشیر کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ کل اتوار کو ام درمان کے علیا اسپتال میں اپنی رہائش گاہ پر توپ خانے سے حملے کے وقت عمر البشیر نماز ادا کررہے تھے۔

ام درمان کے ایک اسپتال پر بمباری میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں البشیر موجود تھے۔

خیال رہے کہ سابق اسلام پسند صدر عمرالبشیر کو فوج کی طرف سے تختہ الٹے جانے کے بعد فوج کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔

ان کے وکیل ہاشم ابوبکر الجعلی نے العربیہ کو آج پیر کے روز جاری کردہ بیانات میں واضح کیا کہ البشیر اور ان کے سابق نائب بکری حسن صالح اور باقی ملزم مریض نماز ظہر میں موجود تھے جب ان کے فلیٹ پر بمباری کی گئی۔

سابق سوڈانی صدر کے وکیل نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ البشیر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے علیا ہسپتال پر بمباری کو جنگی جرم قرار دیا۔

شدید لڑائی کا علاقہ

عمر البشیر بغاوت کیس کی سماعت کرنے والی عدالت نے سابق نائب صدر بکری حسن صالح اور سابق وزیر دفاع عبد الرحیم محمد حسین سمیت پانچ ملزمان کو ضرورت کے پیش نظر ام درمان کے علیا ہسپتال میں رہنے کی اجازت دے دی تھی جہاں ان کی طبی دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے۔

چونکہ گذشتہ اپریل میں دارالحکومت خرطوم اور سوڈان کی متعدد ریاستوں میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج نے انہیں جیل سے انتہائی سکیورٹی والی فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

کل اتوار کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے علیا ہسپتال پر بمباری کی۔ العربیہ اور الحدث کو فوجی ذرائع نے بتایا کہ بمباری سے ہسپتال میں ڈائیلاسز سینٹر، انتہائی نگہداشت اور آپریٹنگ روم کو بھی نقصان پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں