کیا والدین اپنے بچوں کے ساتھ ایسی سفاکی سے پیش آسکتے ہیں؟اردن میں ہولناک واقعہ

اردن میں والدین کے ہاتھوں بچے پر تشدد،جلتے سیگریٹ بجھانے اور کھولتا پانی ڈالنے کا اندوہناک واقعہ، عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بچوں کو شرارتوں سے روکنے کے لیے والدین کی طرف سے انہیں ڈانٹ ڈپٹ معمولی کی بات ہے مگر دنیا میں ایسے والدین کم ہی پائے جاتے ہیں جو اپنے ہی خون کے ساتھ بے دردی اور سفاکی سے پیش آتے ہیں۔

اپنے بچوں پر بہیمانہ تشدد کا یہ چونکا دینے والا تازہ واقعہ اردن کی الکرک گورنری کے نواحی علاقے القطرانہ میں پیش آیا ہے جہاں ماں اور باپ نے اپنی ہی بچوں کو وحشیانہ طریقوں سے اذیتوں کا نشانہ بنایا۔

القطرانہ میں سامنے آنے والے ہولناک واقعے کی تفصیلات شائع ہونے کے بعد عوامی حلقوں کی طرف سے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔

تفصیل کے مطابق ایک مقامی جوڑے نے اپنے کم سن بچوں پر بد ترین تشدد کیا ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک نو سالہ بچے کو تشدد میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال لایا گیا۔

تشدد زدہ بچے کو ہسپتال لانے والی بھی اس کی بد بخت ماں ہی تھی جس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ بچہ گرم پانی میں گر کر جھلس گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے جب غور سے دیکھا تو پتا چلا کہ اس کے جسم میں سگریٹ سے جلائے جانے کے نشانات موجود ہیں۔

طبی عملے نے جب اس سے مشکوک زخموں کےبارے میں پوچھا تو خاتون نے آئیں بائیں شائیں کرنے کے بعد وہاں سے راہ فرار اختیار کی۔ ڈاکٹروں کا شبہ مزید بڑھ گیا۔

ماں باپ یا درندے ہیں

ایک طبی ذریعے نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اس کہانی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تشدد زدہ بچے کو اس کی ماں الکرک کے سرکاری ہسپتال لے گئی تھی۔اس نے دعویٰ کہا کہ اس پر گرم پانی کا ایک جگ گرگیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے بچے کے جسم پر پرانی خراشیں اور سگریٹ کے بٹ بجھے ہوئے دیکھے۔

ماں نے محسوس کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے جسے ڈاکٹر اور طبی عملہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ فوراً اپنے بچے کو وہاں اکیلا چھوڑ کر ہسپتال سے باہر بھاگ گئی۔

ذریعے نے تصدیق کی کہ ہسپتال میں پبلک سکیورٹی والوں کو فوری طور پر واقعے کی اطلاع دی گئی انہیں بچے کے خاندان کی فیملی بک مل گئی۔

یہ جوڑا اپنے دوسرے بچوں پر بھی تشدد کرتا تھا

ذریعے نے تصدیق کی کہ فیملی پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ الکرک برانچ نے فرانزک کنسلٹنٹ دعوض الطراونہ کو طلب کیا، جس نے تشدد کا نشانہ بننے والے بچے کا اس کے چار بھائیوں کے ساتھ معائنہ کیا اور معلوم کیا کہ ان پر مختلف اوقات میں تشدد کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ تشدد کا نشانہ بننے والا بچہ 50 فیصد دوسرے درجے کا جل چکا ہے جس میں سر، گردن کا اگلا حصہ، کمر، سینے اور اوپری اعضاء شامل ہیں۔

یہ بھی پتہ چلا کہ بچے کے پاؤں پر رسیوں کے نشانات تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی خراب جسمانی ساخت کے علاوہ اسے طویل عرصے تک بند رکھا گیا۔

ملزمان گرفتار

درایں اثناء سکیورٹی ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کوبتایا کہ متاثرہ بچے کی عمر نو سال تھی اور اسے جلانے علاوہ بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بچے کو مزید علاج کے لیے الکرک سرکاری ہسپتال سے دارالحکومت عمان کے البشیر سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ .

سکیورٹی سروسز کی جانب سے واقعے کی وسیع تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ بچے پر ایک سوچے سمجھے منصوبے سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس کے والدیں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔

الکرک گورنری کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپنے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والی ماں کو ایک ہفتے کے لیے حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں