اسرائیلی ریزرو فوجیوں کا حکومتی عدالتی منصوبے کے خلاف مزاحمت کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں نیتن یاھو کی حکومت عدالت کی طاقت کو محدود کرنے اور اس کے اختیارات میں کمی لانے کے اپنے منصوبے پر بدستور عمل پیرا ہے تو دوسری جانب مخالفین کا احتجاج بھی شدید ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی ریزور فوجیوں نے تل ابیب میں بڑا مارچ کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے اختیارات کو روکنے کے اپنے متنازع منصوبے کو آگے بڑھائے گی تو وہ اپنی رضا کارانہ خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیں گے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کے روز مارچ کیا۔

وزیر اعظم نیتن یاہو کے قوم پرست مذہبی اتحاد کی طرف سے عدالت سے اس کے کچھ نظرثانی کے اختیارات چھیننے کی مہم نے پورے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر احتجاج پیدا کردیا ہے۔ امریکہ سمیت اسرائیل کے اتحادی ملکوں میں بھی اسرائیلی حکومت کے اس منصوبے پر تشویش پھیل گئی ہے۔

اتوار اور پیر کو مسودہ قانون کی پہلی خواندگی کی منظوری کی گئی تو مظاہروں میں بھی شدت آگئی ہے۔ ایک کابینہ کے وزیر نے کہا کہ اگر احتجاج میں کوئی بڑا اضافہ ہوتا ہے تو اپنی پولرائزنگ مہم پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔

لڑاکا طیاروں کے پائلٹوں اور سپیشل فورسز کے یونٹوں سمیت فوج کی کچھ انتہائی اشرافیہ میں موجود تحفظ پسندوں کے احتجاج نے خاص توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس صورت حال سے سے دفاعی سربراہان کی جانب سے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی ہے کہ ایسے مظاہرے قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کا خطرہ پیدا کردیں گے۔ اسرائیلی فوج نے احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

حکومت اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کی ضرورت اس بات پر لگام لگانے کے لیے ہے کہ فعال ججوں کو سیاست میں مداخلت سے روکا جائے۔ تاہم عدلیہ منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عدلیہ اصلاحات کے نام پر تجاویز اسرائیل کی جمہوری اقدار کو مجروح کر رہی ہیں۔

ریزرو فوجیوں میں سے ایک 51 سالہ رون شیرف نے کہا کہ ہر سپاہی جو اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے اور مشن پر جاتا ہے وہ ایک ایسی ریاست کے لیے ایسا کرتا ہے جس کی تعریف یہودی اور جمہوری ہو۔ لیکن اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو نکال دیتے ہیں تو یہ ملک اس قابل نہیں رہے گا جس کی حفاظت کی جا سکے۔

احتجاج کے منتظمین نے ’’رائٹرز‘‘ کے ساتھ ملٹری ڈاکٹروں کے 300 خطوط کا اشتراک کیا جنہوں نے کہا ہے کہ وہ خدمت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح انہوں نے خصوصی آپریشنز میں حصہ لینے والے 750 ریزرو فوجیوں کے دستخط شدہ ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس کہا گیا ہے کہ اگر قانون سازی منظور ہوتی ہے تو وہ ڈیوٹی کے لئے رپورٹ نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں