شام میں روسی اڈے پر ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ شام کی لاذقیہ گورنری میں ساحل پرقائم روسی حمیمیم بیس پر کل بدھ کو ڈرون حملہ کیا گیا، جو اس سال اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔ اگر آبزرویٹری کی معلومات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ملک کے شمال مغرب میں سلامتی کی صورت حال میں ایک قابل ذکر پیش رفت ہو گی کیونکہ ایک طرف شامی اور روسی افواج اور دوسری طرف تحریر شام محاذ جیسے عسکریت پسند گروپوں کے درمیا کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

آبزرویٹری نے لاذقیہ کے نواحی علاقے جبلہ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "وہاں علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، وہ حمیمیم ہوائی اڈے پر روسی اڈے پر ڈرون حملے کی آوازیں تھیں۔ روسی فوج نے حملے کو پسپا کرنے کی کوشش کی۔ شہری آبادی والے مقامات پر گولے گرنے اور راکٹ باری سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ شامی حکومت سے وابستہ سرکاری میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ یہ دھماکے "فوجی مشقوں کی وجہ سے ہوئے" جس کی وجہ سے "سوشل میڈیا پر غصہ" پھیل گیا۔

ایک پچھلی رپورٹ میں آبزرویٹری نے نشاندہی کی تھی کہ یہ دھماکے حمیمیم کے علاقے کے قرب و جوار میں ہوئے، جہاں شام میں روس کا سب سے بڑا فوجی اڈہ واقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ دھماکے راکٹ حملے کی وجہ سے ہوئے یا علاقے میں روسیوں اور حکومتی افواج کی فوجی تربیت کی وجہ سے، کیونکہ آس پاس کے رہائشی مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

حمیمیم بیس پر مبینہ حملہ سرکاری میڈیا کے اس بیان کے بعد ہوا ہے، جب 23 جون کو ڈرونز نے لطاکیہ گورنری کے دیہی علاقوں میں شام کے صدر بشار الاسد کی جائے پیدائش قرادحہ شہر پر حملہ کیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب روسی طیاروں نے گذشتہ ہفتوں میں ادلب اور حلب گورنریوں میں حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقوں پر ایک سے زیادہ حملے کیے، جن میں سے کچھ میں شدت پسند دھڑوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں