قرآن پاک ںذر آتش کرنے پر مظاہرین کا عراق میں سویڈن کے سفارت خانے پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن میں قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کرنے پر جمعرات کی صبح سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور عمارت کو آگ لگا دی۔

درجنوں افراد سفارت خانے کے احاطے کے ارد گرد لگی باڑ پر چڑھ گئے اور کچھ نے سامنے والے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کی۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور برقی لاٹھیوں کا استعمال کیا۔جبکہ مظاہرین نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔
"ایجنسی فرانس پریس" کے مطابق ، یہ واقعہ سویڈش حکام کی جانب سے سٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ قرآن کے نسخے کو جلانے کے اعلان کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آیا۔


سویڈن کی مذمت اور عراق کا موقف

سویڈن کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو بغداد میں اپنے سفارت خانے کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی اور عراقی حکام کو سفارتی مشنوں اور ان کے ملازمین کے تحفظ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

عراقی وزارت خارجہ نے سویڈن کے سفارت خانے کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی ہے۔

وزارت نے کہا کہ سفارت خانوں اور سفارت کاروں پر حملے ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے ، اور سفارت کاروں اور بین الاقوامی اداروں کے عملے پر ہونے والے تمام حملوں کو مسترد کرنے پر زور دیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملہ کیسے ہوا، اور اس کے مرتکب افراد کی شناخت کی گئی ہے یا نہیں۔

وزارت نے کہا کہ عراقی حکومت نے مجاز سیکورٹی حکام کو فوری تحقیقات کرنے ، ذمہ داروں کی شناخت کرنے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں