متحدہ عرب امارات میں بھی سویڈن کے ناظم الامور کی طلبی، احتجاجی مراسلہ حوالے

’’یو اے ای ایسی حرکات کو اخلاقی اور انسانی اقدار اور اصولوں کے منافی سمجھتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ابوظبی میں سویڈن کے سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے قرآن کریم کی مسلسل بے حرمتی کے واقعے کی مذمت اور احتجاجی یادداشت حوالے کی۔

امارات کے سرکارے خبر رساں ادارے ’’وام‘‘ کے مطابق اماراتی دفتر خارجہ نے زور دیا کہ’ امن وسلامتی کے حصول پر منفی اثرات ڈالنے والی نسلی تفریق اور نفرت کے بیانیے کو کنٹرول کرنا ہوگا‘۔

’متحدہ عرب امارات اس قسم کی گھناؤنی سرگرمیوں کو اظہار رائے کی آزادی کا جواز دینے کے خلاف ہے اور اسے مسترد کرتا ہے‘۔

دفتر خارجہ نےکہا کہ’ متحدہ عرب امارات امن واستحکام کو متزلزل کرنے والی تمام سرگرمیوں کو مسترد کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا‘۔

’امارات کا موقف ہے کہ اس قسم کی حرکتیں اخلاقی اور انسانی اقدار اور اصولوں کے منافی ہیں‘۔

اماراتی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’انتہا پسندی اور نفرت کا بیانیہ اقوام عالم کے درمیان امن و سلامتی اور روا داری کی اقدار کو رائج کرنے والی بین الاقوامی کوششوں کے منافی ہے‘۔

دفتر خارجہ نے مذہبی علامتوں اور مقدس شخصیتوں کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ ’اشتعال انگیزی اور فتنہ گری سے دور رہا جائے۔ دنیا کو اس وقت روا داری اور پرامن بقائے باہم کے لیے عالمی اصولوں کو فروغ دینے کی خاطر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’قرآن پاک کی بے حرمتی جیسی سنگین حرکتوں کی بار بار اجازت دینا ان بین الاقوامی قوانین اور روایات کے منافی ہے جو مقدس علامتوں، کتابوں اور مذاہب کی تواہین سے روکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نفرت اور انتہا پسندی کا بیانیہ تنازعات کو بھڑکانے کا باعث بنتا ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں