اردن: مقتول طالبہ کے ورثاء نے قاتل کے خاندان سے صلح کر لی، دیت بھی معاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن میں ایک سال قبل یونیورسٹی میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی طالبہ ایمان ارشید کے لواحقین نے قاتل کو معاف کرتے ہوئے اس کے خاندان کے ساتھ صلح کر لی ہے اور اس سے دیت لینے سےبھی انکار کر دیا ہے۔

مقتولہ کے ورثاءکی طرف سے قاتل سے دیت میں پانچ لاکھ اردنی دینا یعنی 7 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر رقم دیت کے طورپر طلب کی تھی جسے بعد ازاں کم کر کے 70 ہزار اردنی دینار یا 98 ہزار امریکی ڈالر کے برابر کر دیا گیا تھا۔

مقتول لڑکی ایمان کے والد نے "چیک" پھاڑ دیا اور کہا کہ میں خدا کی خاطر بیٹی کا خون معاف کرتا ہوں۔

ایمان کے والد ناراض ہیں

صلح کے دوران مقتولہ ایمان کے والد نے کہا کہ قاتل بزدل انسان تھا کیونکہ اس نے ایک لڑکی اور یونیورسٹی کی طالبہ پر حملہ کیا تھا اور اگر وہ زندہ ہوتا تو میں اس کا ’’خون پیتا‘‘۔

اس نے مزید کہا کہ قاتل نے لڑکی ایمان پر حملہ کیا کیونکہ وہ بزدل تھا۔ اس لیے اس نے خودکشی کی کیونکہ وہ مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

خیال رہے کہ ایمان کے قاتل نے پولیس کے گھیرے میں آنے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔

قبائلی صلح

قتل ہونے والی ایمان کے بھائی نور ارشید نے چند روز قبل صلح کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اور فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگلے جمعہ 21 جولائی کو ان کی بہن ایمان مفید ارشید المقداد کے قتل سے متعلق قبائلی مصالحتی عمل کی تاریخ مقرر ہے۔

نور نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ "یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگلے جمعہ 21 جولائی 2023ء ملکہ رانیہ سینٹر کے قریب جنوبی مارکہ میں شام چھ بجے ایمان مفید ارشید المقداد کے قتل کے واقعے کے بعد قبائلی صلح کی جائے گی۔"

نور نے مزید کہا کہ "میری پیاری بہن، ایمان، جس نے موت کو قبول کیا اور اس بات کو قبول نہیں کیا کہ اس کی عزت کی تذلیل کی جائے۔"

اپلائیڈ سائنس پرائیویٹ یونیورسٹی میں نرسنگ کی طالبہ ایمان ارشید جس کی عمر 21 سال تھی کو یونیورسٹی کیمپس کے اندر 6 گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ موقعے پر ہی دم توڑ گئی تھی۔ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہو گیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو تلاش کرکے اس سے پکڑنے کی کوشش کی مگر اس نے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں