اسرائیل: عدالتی ترامیم کا بحران، ریزرو فوجیوں کا سروس ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں نیتن یاھو کی حکومت کے متنازع عدالتی اصلاحاتی منصوبے کے باعث بحران شدت پکڑتا جارہا ہے۔ عدالتی ترامیم کی مخالفت میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک ہزار 142 پائلٹوں اور ملازمین نے اپنی ریزرو سروس ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے یہ اطلاع جمعہ کو دی۔ ریزرو فوجیوں نے اس حوالے سے خط شائع کیا۔ اس میں ریزرو فوجیوں نے بل کی قانون سازی کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ وسیع سمجھوتوں تک پہنچا جا سکے، عدالتی نظام میں لوگوں کے تمام طبقات کے اعتماد کو حاصل کیا جائے اور عام لوگوں کی آزادی کو محفوظ رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے نتیجے میں اعتماد میں کمی آئے گی۔ اس سے میری رضامندی کے بغیر میری جان کو خطرے میں ڈال دیا جائے گا۔

خیال رہے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ عدالتی ترامیم سے متعلق ایک مسودہ قانون پر اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اور اگلے ہفتے اس بل کی اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظوری متوقع ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما بینی گانٹز نے بدھ کو کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے اسرائیلی صدر کی زیر نگرانی بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کنیسٹ کے ارکان کی طرف سے اگلے پیر کو ترامیم کے پہلے حصے پر ووٹنگ کی توقع ہے۔ اس مسودہ قانون کو "معقول دلیل کا قانون" کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ اس بل کو منظور کرلیتی ہے تو نیا قانون سپریم کورٹ کو حکومتی فیصلوں یا تقرریوں کو کالعدم قرار دینے سے روک دے گا۔ سپریم کورٹ کے اس اختیار کو مجوزہ قانون غیر معقول قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بل حکومتی شاخوں کے درمیان توازن بحال کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں