بڑی تعداد میں مظاہرین بغداد پہنچ گئے، سفارت کاروں کا تحفظ کرینگے: عراقی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی مذمت کے باوجود سٹاک ہوم میں قرآن کریم کے نسخے کی بے حرمتی پر ایک مرتبہ پر اسلامی دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

عراق کی جانب سے سویڈش سفیر کو اپنی سرزمین سے نکال دیا گیا ہے۔ عراقی چارج ڈی افیئرز کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ عراق نے تمام سویڈش کمپنیوں کے ساتھ لین دین پر پابندی لگا دی ہے۔

تاہم عراقی وزارت خارجہ نے آج ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر حملے اور آگ لگائے جانے کے بعد ایسا حملہ کو دوبارہ وقوع پذیر نہیں ہونے دے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ بغداد میں سویڈن کی سلطنت کے سفارت خانے پر جو کچھ کیا گیا وہ ایک ایسا فعل ہے جس کا اعادہ نہیں کیا جا سکتا اور اس سے ملتا جلتا کوئی بھی عمل قانونی جوابدہی سے مشروط ہو گا۔

الصحاف نے ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ویانا کنونشن کے لیے عراق کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت تمام مشنز میں کام کرنے والے سفارتی عملے کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔

دریں اثنا مظاہرین کا ہجوم بغداد میں جمع ہوگیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق صدرسٹ تحریک سے ہے۔ یہ افراد ہفتہ کو ڈنمارک میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور عراقی پرچم کو نذر آتش کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں