سوڈانی بچے کو’آر ایس ایف‘ کی جانب سے بھرتی کیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سوڈانی بچے کی ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے جس کو متحارب ملیشیا ’سریع الحرکت فورسز‘ [آر ایس ایف] پر مبینہ طور پر جبری بھرتی کا الزام عاید کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بہ ظاہر کندھے پر زخم اور فوجی یونیفارم میں ملبوس کم عمر بچے نے بتایا کہ "میں اپنے دو بڑے بھائیوں کے ساتھ تھا، ریپڈ سپورٹ فورسز نے ہمیں تلاش کیا اور ہم سے پوچھا کہ ہم کہاں سے آرہے ہیں؟ ہم نے انہیں بتایا کہ جبل اولیاء سے ۔ انہوں نے میرے بڑے بھائیوں سے کہا کہ آپ انٹیلی جنس کی طرف سے ہیں اور شہریوں کو انٹیلی جنس کے ذریعے اطلاع دیتے ہیں۔"ہم نے کہا کہ ہم تو سادہ لوح شہری ہیں۔

بچے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم نے افسروں سے کہا کہ ہمارے ساتھ آئیں۔ ہم عرب بازار سے کپڑے لے کر بیچنے جا رہے ہیں۔

"انہوں نے مجھ سے کہا کہ 'آؤ ہم تمہیں پیسے دیں گے، تم اپنی ماں کے پاس واپس آؤ گے۔ میں ان کے ساتھ سوار ہوگیا۔ اس کے بعد ہمیں سریع الحرکت فورسز کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا۔ وہ سب کی توہین کرتے۔ ہمیں پانی اور کھانے سے محروم رکھتے تھے۔ جب وہ ناشتہ کرتے تو مجھے گاڑی میں باندھ کر چھوڑ دیتے تھے۔"

جنگ میں بچوں کو ایندھن بنانے کا الزام

سوڈان میں دارالحکومت خرطوم میں ایک مرتبہ پھر شدید گولہ باری اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد سوڈانی فوج نے آج ہفتے کے روز ریپڈ سپورٹ فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لڑائی میں 15 سال سے کم عمر کے بچوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ سوڈانی مسلح افواج نے آر ایس ایف کے اس عمل کو بین الاقوامی اور انسانی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

مسلح افواج کے سرکاری ترجمان نے ٹویٹر پر فوج کے ملٹری میڈیا کی طرف سے شائع کردہ ٹویٹس میں یہ بھی کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے بڑی تعداد میں مجرموں اور جیلوں سے فرار ہونے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ آر ایس ایف جیلوں سے فرار ان مجرموں کو جنگجوؤں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ آر ایس ایف کا یہ عمل بھی مجرمانہ کارروائیوں کے ضمن میں آتا ہے۔

سوڈانی فوج نے کہا کہ آپریشنل صورتحال ہمارے حق میں مستحکم ہے۔ ملک بھر میں جہاں بھی ریپڈ سپورٹ فورسز موجود ہیں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے 15 اپریل 2023 کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک کم از کم تین ہزار افراد ہلاک اور 30 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں