سویڈش سفارت خانے کی حفاظت میں عراقی حکومت کی ناکامی پر عالمی ردعمل

یورپی یونین اور برطانیہ کے بعد امریکہ کی طرف سے بھی مذمت سامنے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر مظاہرین کے حملے کی شدید مذمّت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے مشن کی درست طور پر حفاظت نہیں کی جو "ناقابلِ قبول"ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ میتھیو ملر نے کہا کہ "امریکہ 20 جولائی کو صبح سویرے بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو دوسری مرتبہ سویڈش سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے اور اسے نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے ایکشن نہ لیا۔"

جمعرات کو صبح سویرے مخصوص فرقہ سے تعلق رکھنے والے مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں مظاہرین نے سفارت خانے کے احاطے میں حملہ کیا اور عمارت کو آگ لگا دی۔

سٹاک ہوم میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ قرآن سوزی پر مبنی احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی عراقی حکومت نے مذمت کی تھی اور یہ حملہ مذکورہ احتجاج سے پہلے کیا گیا ہے۔

ملر نے ایک بیان میں حملے کے بارے میں کہا کہ "احتجاج کی آزادی، جمہوریت کا لازمی حصہ ہے لیکن جو گذشتہ رات ہوا، وہ تشدد کا ایک ناجائز عمل تھا۔ غیرملکی مشنز کو تشدد کا ہدف نہیں بنانا چاہیے۔"

میتھیو ملر نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی سفارتی مشنز کی حفاظت کے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی ذمّہ داری کو پورا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں