ڈنمارک میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے پر مشتعل مظاہرین کا بغداد کے گرین زون پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں عراقی سفارت خانے کے سامنے ایک الٹرا نیشنلسٹ گروپ کی طرف سے قرآن کو نذر آتش کرنے کی اطلاعات کے بعد سنیچر کو سینکڑوں عراقی مظاہرین نے گرین زون پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس میں غیر ملکی سفارت خانے اور عراقی حکومت کی عمارت واقع ہے۔

مظاہرین نے گرین زون کی طرف جانے والے جمھوریا پل کو بلاک کر دیا، انہیں سیکورٹی فورسز نے پیچھے دھکیل دیا، اور ڈنمارک کے سفارت خانے تک پہنچنے سے روک دیا۔

اس سے دو دن قبل مشتعل مظاہرین نے بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر دھاوا بولا تھا۔

مظاہرین کئی گھنٹوں تک سفارتی چوکی پر موجود رہے۔ انہوں نے جھنڈے اور بورڈ اٹھائے تھے جن میں عراق کے بااثر شیعہ عالم اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کو دکھایا گیا تھا، اور آگ لگانے کی کوشش کی۔

سفارت خانے کے عملے کو ایک روز قبل ہی نکال لیا گیا تھا۔

اس سے چند گھنٹے بعد ہی عراق کے وزیر اعظم نے قرآن کی بے حرمتی پر احتجاجاً سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔

ایک عراقی پناہ گزین جس نے گذشتہ ماہ اسٹاک ہوم میں ایک مظاہرے کے دوران قرآن مجید کا نسخہ جلایا تھا، نے جمعرات کو دوبارہ ایسا ہی کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن بالآخر اس سے باز آ گیا۔ تاہم، اس نے لات ماری اور اس پر قدم رکھا، اور عراقی پرچم اور مقتدی الصدر اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصویر کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔

ڈنمارک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کے روز، الٹرا نیشنلسٹ گروپ ڈانسک پیٹریاٹر کے ارکان نے کوپن ہیگن میں عراقی سفارت خانے کے سامنے قرآن کا ایک نسخہ اور ایک عراقی جھنڈا جلایا اور اس کارروائی کو فیس بک پر لائیو سٹریم کیا۔

ان واقعات نے بغداد میں مظاہروں کو ہوا دی۔

جمعے کی سہ پہر عراق اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں ہزاروں افراد نے پرامن احتجاج کیا۔

ہفتے کے روز ایک بیان میں، عراقی وزارت خارجہ نے ڈنمارک میں عراقی سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک اور عراق کے جھنڈے کی بے حرمتی کے واقعے کی سخت اور بار بار مذمت کی۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ "ان مظالم کے خلاف فوری اور ذمہ داری کے ساتھ کھڑے ہوں، جو دنیا بھر میں سماجی امن اور بقائے باہمی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔"

شام 6 بجے بغداد میں ایک اور احتجاجی مظاہرہ ہونے والا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں