ہراسانی اور انسانی سمگلنگ، لبنان میں بچوں کے خلاف نیا اسیکنڈل بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جب ہم بچپن کی بات کرتے ہیں تو بچوں کے چہروں پر خوشی اور معصومیت کے مناظر نظر آتے ہیں جب وہ اپنے والدین کی بانہوں میں ہوتے ہیں اور کھیل کود کرتے ہیں۔ مگرلبنان میں بچوں کی معصومیت درندگی کا سامنا کررہی ہے۔

تاہم لبنان میں اب بہت سے بچے خطرے میں ہیں۔ لبنان میں اب گھر اور درو دیوار بھی غیر محفوظ ہیں۔ جہاں انہیں جنسی ہراسانی، عصمت دری، تشدد یا مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جولائی کے اوائل میں المتن ضلع کے الجدیدہ قصبے کی نرسری کے اندر سے ویڈیو لیک ہوئی جس میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کا ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ویڈیو ایک 6 سالہ طالبہ لین کی کہانی پر مشتمل تھی جو مہینے کے شروع میں جسمانی تشدد کے باعث ہسپتال لائی گئی تھی جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم تور گئی تھی۔ اس واقعے نے عوامی حلقوں میں شدید رد عمل کی لہر پیدا کی۔ عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔

بچوں کی خریدو فروخت کے دھندے میں ایک تنظیم ملوث

لبنان میں بچوں کی خریدوفروخت کے مکروہ دھندے میں ایک تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بعبدا کی انفرادی مجرمانہ فوج داری عدالت کی جج جوئل بو حیدر’المحبہ والسلام‘ کے دفاتر فوری طور پر سیل کرنے کا حکم صادر کیا اور اس کے دفاتر کی تالہ بندی کردی گئی۔ اس ایسوسی ایشن پر بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

سیاق و سباق میں وکیل ڈیانا آصاف کا کہنا تھا کہ 'ایسوسی ایشن میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات پہلے درج کیے گئے تھے لیکن جو بات سامنے آئی ہے وہ انسانی اسمگلنگ کا جرم ہے۔'

آصاف نے "النھار" اخبار کو بتایا کہ "جج بچوں کو ان کی حفاظت کے لیے اس انجمن میں ڈالتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہو گئی کہ ایسوسی ایشن نے رقم کے عوض ان بچوں کو دوسرے خاندانوں کو بیچ کر ان کی اسمگلنگ شروع کردی۔ اس واقعے کے بعد دفاتر کو بند کردیا گیا ہے اور اس کے ڈائریکٹر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، "النھار" کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ "ایسوسی ایشن بہت سی نابالغ لڑکیوں کو سپانسر کرتی ہے، جن کی عمریں نوزائیدہ سے لے کر 17 سال تک ہوتی ہیں۔ ان میں مقامی اور شامی بچیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں