سعودی عرب کی اسلامی مقدسات پر حملوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ کرنے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے سویڈن میں قرآن پاک کو جلائے جانےکے گستاخانہ واقعے کی دوبارہ جسارت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسلامی مقدسات پرحملوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کرنا بھی قابل مذمت جرم ہے۔

وزارت خارجہ نے اسلامی مقدسات کے خلاف ہونے والے مسلسل واقعات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات میں ناکامی پر مملکت کی جانب سے شدید مذمت اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق اسلامی مقدسات کے حوالے سے تازہ واقعہ ڈنمارک میں پیش آیا جہاں ایک انتہا پسند گروہ نے قرآن کریم کے نسخوں کی بے حرمتی کی۔ کوپن ہیگن میں عراقی سفارت خانے کے باہر ایک انتہا پسند شخص کی طرف سے نہ صرف قرآن پاک کا نسخہ نذرآتش کیا بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت اور نسل پرستانہ نعرے لگائے گئے۔

انتہا پسند گروہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوپن ہیگن میں عراق کے سفارتخانے کے سامنے نفرت آمیز نسل پرستی پرمبنی نعرے لگائے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مملکت کی جانب سے اس قسم کی نفرت آمیز کارروائیوں اورنعرے جس میں مذاہب کے مابین نفرت اورتعصب کو ابھارا گیا پر سخت مذمت کی گئی ۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اس قسم کی کارروائیوں سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں نفرت اشتعال انگیزی پرمبنی ہیں‘۔

’اس قسم کی کارروائیوں پرعالمی قوانین کے مطابق فوری طور پرپابندی عائد کرنا ضروری ہے‘۔

قابل ذکر ہے کہ قرآن کا پہلا نسخہ جنوری میں دائیں بازو کے سویڈش ڈنمارک کے شدت پسند راسموس پالوڈن نے جلایا تھا۔

28 جون کو سویڈن میں ایک عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا نے عید الاضحی کے موقع پر اسٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے قرآن کے نسخے کے اوراق جلائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں