غزہ میں پہلی مرتبہ ’’سرخ مکئی‘‘ کی کٹائی جاری

فلسطینی تاجر ابو زیادہ سرخ مکئی کے بیچ غزہ لائے تو اسے بڑی پذیرائی ملی، اس بیج کو زیادہ پانی اور کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع ایک کھیت میں مکئی کے پودے لگے ہیں۔ مکئی کی چھلیاں سبز پتوں کے درمیان چھپی ہوئی تھیں۔ یہ چمکدار سرخ، سفید اور گلابی رنگوں کے مرکب کی عکاسی کر رہی ہے۔

اس شعبے میں پہلی بار مکئی کی اس قسم کو میٹھے ذائقے کے ساتھ اگایا گیا ہے ۔ یہ سائز کے لحاظ سے پیلے رنگ یا سفید رنگ والی مکئی سے مختلف ہے۔ اس لیے اسے ان دونوں قسموں کے درمیان کے سائز والی مکئی قرار دیا جاتا ہے۔

مکئی کے پکے ہوئے پھلوں کے درمیان گھومتے ہوئے فلسطینی تاجر 30 سالہ محمد ابو زیادہ غزہ میں اپنی نوعیت کے پہلے تجربے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ابو زیادہ چین کے ساحلی شہر شانتو سے سرخ مکئی کے بیچ جنوری میں غزہ لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان بیجوں کی تیاری شعبہ زراعت میں اہم پیش رفت ہے۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران ابو زیادہ کو غزہ کی پٹی میں مکئی کی اس قسم کو لانے کا خیال رہا۔ یاد رہے غزہ کی پٹی کا اسرائیل نے 16 سال سے زیادہ عرصہ سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

ابو زیادہ نے بتایا کہ اس قسم کی مکئی ابتدائی موسم گرما کے درمیانی عرصے میں موسم خزاں تک اگتی ہے۔ یہ اس ملک کی آب و ہوا کی نوعیت سے متاثر ہوتی ہے جس میں اسے اگایا جاتا ہے۔

ابو زیادہ کا کہنا ہے کہ انہیں مکئی کی اس قسم سے تقریباً دو سال پہلے واقفیت ہوئی جب انہوں نے تجارت اور سامان کی درآمد کے مقصد سے چین کے کئی شہروں کا دورہ کیا۔

ابو زیادہ نے بتایا کہ میں نے اس تجربے کو غزہ کے ان باشندوں تک منتقل کرنے کو ترجیح دی جو آزادانہ طور پر بیرون ملک جانے سے قاصر ہیں۔ جن کے معاشی حالات 2007 کے وسط سے اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں ابتر ہو چکے ہیں۔

یورو- میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق غزہ کی پٹی کی 2.3 ملین آبادی میں سے 61.6 فیصد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 2022 کے آخر تک بے روزگاری کی شرح 47 فیصد تک پہنچ گئی۔

ابو زیادہ نے کہا میں نے گزشتہ اپریل میں ایک فلسطینی کسان سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ سرخ مکئی کے بیج لگانے اور اس کے پھلوں کو پکنے کے عمل کی نگرانی کرے۔

آمدنی کے متعدد ذرائع میرے لیے ان بیجوں کو درآمد کرنے کے لیے ایک ترغیب ہیں۔ چونکہ میرا پیشہ تجارت ہے، اس لیے میں اس شعبے میں نئی چیزوں کو متعارف کرانے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سرخ مکئی کی کاشت کے پہلے تجربے سے حاصل ہونے والی فصل کو ان تمام لوگوں میں مفت تقسیم کیا جائے گا جو اسے آزمانا چاہتے ہیں۔

ابو زیادہ نے کہا میں اب تجارت کے مقصد سے نئی مقداریں درآمد کرنے اور کسانوں کو فروخت کرنے پر کام کروں گا۔ ایک دونم کے لیے تقریباً 3 سے 4 کلو بیج درکار ہوتے ہیں۔

فلسطینی تاجر نے نشاندہی کی کہ سرخ مکئی غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر مقبول ہے۔ عام لوگوں میں یا سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیج کو زیادہ مقدار میں پانی، کیڑے مار ادویات یا کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں