نہ تھمنے والے آنسو، عراق میں بچی نے اپنے گھوڑے کو کیسے الوداع کیا

8 سالہ بچی اب بھی اپنے گھوڑے کی قبر پر سیب اور چینی لے کر جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک انتہائی دل کو چھو لینے والے منظر میں اور نہ ختم ہونے والے آنسوؤں کے ساتھ عراق کے کردستان کے علاقے کی سب سے کم عمر گھڑ سوار لڑکی لانیا فاخر نے اپنے گھوڑے کی موت پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور روتے ہوئے سوشل میڈیا پر بھی اپنے لیے انتہائی دکھ اور ہمدردی کی کیفیت پیدا کردی۔

8 سالہ لانیا فاخر کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا۔ لانیا کو کردستان کے علاقے کی سب سے کم عمر گھڑ سوار قرار دیا گیا۔ ویڈیو میں وہ اپنے گھوڑے کی موت پر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی نظر آئی۔

ننھی گھڑ سوار نے اپنے گھوڑے کی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ گھوڑا دیا تھا اور میں اس سے بہت پیار کرتی تھی۔ ہر روز اس کی دیکھ بھال کرتی اور اسے کھانا دیتی تھی۔ آخری دن میں اسے کھانا کھلانے گئی تھی تو وہ بیمار تھا۔ اس کا ڈاکٹر مجھے اس کے پاس جانے سے روک دیا لیکن میں نے اسے کھلانے پر اصرار کیا۔

لانیا فاخر نے کہا سب جانتے تھے کہ میرا گھوڑا مر گیا ہے لیکن انہوں نے اسے مجھ سے چھپایا۔ میں نے اسے مرتے دیکھا تو دل سے رو پڑی۔ مجھے لگا کہ میری دنیا ٹوٹ رہی ہے۔ میں نے اپنا سب سے اچھا دوست کھو دیا اور میں اب بھی اس کی قبر پر سیب اور چینی لے کر جاتی ہوں۔ میں اسے کبھی نہیں بھولوں گی۔ لانیا نے کہا میں گھوڑے کی سواری جاری رکھوں گی۔

لانیا فاخر نے اس سے قبل کہا تھا کہ میں اس گھوڑے کو دل سے بہت پیار کرتی ہوں اور جب میں اسے چومتی ہوں تو یہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اسے دل سے پیار کرتی ہوں۔ یہ گھوڑا میری ہر بات سنتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں اس گھوڑے پر سوار ہوکر ملک کے باہر بھی اپنے وطن کا جھنڈا بلند کروں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں