وسیع تر احتجاج اور مخالفت کے باوجود کنیسٹ میں عدالتی اصلاحات کے بل پر حتمی بحث شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد نے تمام تر عوامی مخالفت کے باوجود نام نہاد عدالتی اصلاحات بل کو کنیسٹ [پارلیمنٹ] سے منظور کرنے کا عزم کیا ہے۔ دوسری طرف سول سوسائٹی اور اپوزیشن متنازع عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے آج اتوارکو اطلاع دی ہے کہ کنیسٹ نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی لہر کےباوجود عدالتی نظام میں ترامیم کرنے کے لیے ایک بل پر حتمی بحث شروع کی۔

اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے خبر دی ہے کہ توقع ہے کہ یہ بل پیر کی شام کو قانون میں تبدیل ہو جائے گا۔

نئی قانون سازی سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرے گی اور اسے حکومت کے ان فیصلوں پر اعتراض کرنے سے روکے گی جنہیں عدالت غیر معقول سمجھتی ہے۔

اپوزیشن، سول سوسائٹی اور عدلیہ کی جانب سے مجوزہ عدالتی ترامیم کو جمہوریت کے لیے خطرہ اور عدلیہ کی آزادی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اخبار کے مطابق کل پیر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:00 بجے بل پر ووٹنگ شروع ہونے والی ہے، جس کے بعد کل شام 6:00 بجے تک تیسری اور آخری ریڈنگ میں ووٹنگ ہوگی۔

اس ماہ کے شروع میں اسرائیلی کنیسٹ نے عدالتی ترامیم کے قانون کے مسودے کو اپنی پہلی رائے شماری میں منظور کیا، جس کے بعد اسرائیل میں عدالتی نظام کی اصلاحات کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا تھا۔

گذشتہ چند مہینوں کے دوران سڑکوں پر ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد منصوبہ بند ترامیم کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ججوں سے اختیارات چھیننے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سمجھے جانے والے قوانین کو ختم کرنے کے اس کے اختیارات کو کم کرنا چاہتی ہے۔

مجوزہ ترامیم موجودہ نظام کی بجائے ججوں کی تقرری میں حکومت کو زیادہ اختیارات دیتی ہیں جس میں ججوں کا انتخاب نو ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے جو حکومت کے اندر اور باہر متعدد جماعتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

اسرائیل میں مظاہروں کے منتظمین نے کہا کہ عدالتی ترامیم کے منصوبے کے خلاف پورے اسرائیل میں ہونے والے مظاہروں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد نے حصہ لیا، جب کہ دسیوں ہزار لوگ پارلیمنٹ کے قریب تل ابیب اور یروشلم میں سپریم کورٹ کے قرب و جوار میں جمع ہوئے۔ احتجاج کا یہ سلسلہ 29 ویں ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں