اسرائیلی پارلیمان میں سپریم کورٹ کے اختیارات کی تحدید کے متنازع قانون کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی قانون سازوں نے پیر کے روز وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ملک کے عدالتی نظام کو از سر نو تشکیل دینے کے متنازع منصوبہ کے ایک اہم حصے کی منظوری دے دی ہے۔

اس بل پر ووٹنگ ایک ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد ہوئی ہے جس میں حزب اختلاف کے قانون سازوں نے "شرم کرو" کے نعرے لگائے اور پھر ایوان سے باہر نکل گئے۔

نیتن یاہو کی متعارف کردہ اصلاحات میں عدلیہ کے اختیارات سے لے کر پارلیمانی فیصلوں کو چیلنج کرنے کی سپریم کورٹ کی صلاحیت کو محدود کرنے اور ججوں کے انتخاب کے طریق کار کو تبدیل کرنے تک وسیع پیمانے پر تبدیلیوں پر زوردیا گیا ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ غیر منتخب ججوں کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ان تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی معاشرے کے ایک وسیع حصے سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے عدلیہ میں اصلاحات کو نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کی ذاتی اور سیاسی شکایات کا نتیجہ قراردیا ہے۔کنیست میں ووٹنگ میں قانون سازوں نے ایک ایسے اقدام کی منظوری دی جو ججوں کو حکومتی فیصلوں کو اس بنیاد پر رد کرنے سے روکتا ہے کہ وہ "غیر معقول" ہیں۔

حزب اختلاف کے ہال سے باہر ہونے کے بعد،متنازع بل 64-0 کے فرق سے پاس ہوا۔ اس کے بعد وزیر انصاف یاریف لیون نے کہا کہ پارلیمان نے عدلیہ کی بحالی کے ایک اہم تاریخی عمل میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔

اسرائیل میں اب اس بل کی منظوری کے خلاف مزید بڑے پیمانے پر مظاہرے متوقع ہیں، اور سول سوسائٹی کے ایک گروپ موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ نے فوری طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔

نچلی سطح کی احتجاجی تحریک نے ووٹنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے زیرقیادت انتہا پسندوں کی حکومت لاکھوں شہریوں کے گلے میں اپنے انتہا پسند نظریات کوٹھونسنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔اس نے مزید کہا کہ کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد کس حد تک نقصان اور سماجی ہلچل ہوگی۔

اس سے قبل مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف جانے والی ایک سڑک کو بند کر دیا تھا اور بڑے خریداری مراکز، مالوں اور کچھ گیس اسٹیشنوں نے احتجاجاً اپنے دروازے بند کر دیے تھے۔

نیتن یاہو پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہزاروں فوجی ریزروسٹوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسی حکومت کے ماتحت کام سے انکاری ہیں جو ملک کو آمریت کی راہ پر گامزن کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان اقدامات سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ فوج کی تیاریوں پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے۔

ووٹنگ سے قبل حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے اعلان کیا تھا کہ ’ہم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔نیتن یاہو کی اسپتال سے فراغت کے چند گھنٹے کے بعد ہی ووٹنگ ہوئی، جہاں انھوں نے پیس میکر لگایا تھا۔ ان کے اچانک ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے سے ہی ڈرامائی واقعات کے سلسلے میں ایک اور حیران کن موڑ آ گیا، جسے واشنگٹن میں قریب سے دیکھا گیا۔

بائیڈن انتظامیہ اکثر نیتن یاہو کی حکومت اور اس کی بحالی کے منصوبے کے خلاف بولتی رہی ہے۔ اتوار کی رات نیوز سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جو بائیڈن نے ان قانونی تبدیلیوں کو آگے بڑھانے کے خلاف متنبہ کیا جو بہت زیادہ تقسیم کو جنم دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت اسرائیل کو درپیش خطرات اور چیلنجز کے پیش نظراسرائیلی رہ نماؤں کے لیے اس قانون سازی میں جلد بازی کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا، توجہ لوگوں کو اکٹھا کرنے اور اتفاق رائے تلاش کرنے پر ہونی چاہیے‘‘۔ بائیڈن مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کو مزید گہرا کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل میں بڑے پیمانے پر جاری احتجاجی مظاہروں میں صہیونی فوج کے فلسطینی زمینوں پر 56 سال سے جاری قبضے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو فلسطینی اپنی آزاد ریاست کے لیے چاہتے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ مسئلہ ان کے حامیوں کو الگ تھلگ کر سکتا ہے۔ لیکن ناقدین دوسرے لوگوں پر اس حکمرانی کو اسرائیل کے لبرل جمہوریت ہونے کے دعوے پر ایک بڑے داغ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں