عدالتی ترامیم پر اسرائیلی کنیسٹ کی ووٹنگ کے موقع پر مشکل مذاکرات

مظاہروں کے درمیان توقع ہے یہ بل پیر کی شام کو قانون میں تبدیل ہو جائے گا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں اپوزیشن کے بڑے مظاہروں کے باوجود نتین یاھو کی حکومت کی جانب سے عدالتی اصلاحاتی بل منظور کرنے کا سفر جاری رہے۔

اتوار کی شام اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ عدالتی اصلاحات کے بل کی ایک اہم شق پر پارلیمنٹ کی ووٹنگ کے موقع پر حزب اختلاف اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

نیتن یاہو حکومت جس میں انتہائی دائیں بازو اور انتہائی مذہبی جماعتیں شامل ہیں نے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ نیتن یاھو حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں اختیارات کے بہتر توازن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

اسرائیلی صدر جو ابھی امریکہ کے دورے سے واپس آئے ہیں نیتن یاہو سے ملنے شیبا ہسپتال گئے۔ نیتن یاھو کی اس ہسپتال میں ہفتہ کی رات دل کی دھڑکن منظم کرنے کے آلے پیس میکر لگانے کے لیے سرجری ہوئی ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان نے "معقولیت" کی شق پر بحث شروع کی۔ یہ بحث حتمی ووٹنگ کی تاریخ پیر تک جاری رہے گی۔ یہ وہ شق ہے جو عدلیہ کو حکومتی فیصلوں کو منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ نیتن یاھو کی حکومت اس شق کو بدل کر عدالت کا یہ اختیار ختم کرنا چاہتی ہے۔

جنوری میں نیتن یاہو حکومت کی طرف سے تجویز کردہ متنازع عدالتی اصلاحات نے اسرائیل میں شدید تقسیم پیدا کردی ہے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی ہے۔

اسرائیلی ایوان صدر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ہنگامی حالت کا وقت ہے۔ ایک معاہدہ ہونا ضروری ہے۔

بعد ازاں ہرزوگ نے حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ سے ملاقات کی تاکہ دوسرے قائد حزب اختلاف بینی گانٹز سے ملاقات کی جاسکے۔ اس حوالے سے ایوان صدر نے تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ ہسپتال میں ان کی "صحت بہترین" ہے اور وہ متنازع عدالتی ترامیم کے بل پر ووٹ ڈالنے کے لیے پیر کو کنیسیٹ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ توقع ہے کہ یہ بل پیر کی شام کو قانون میں تبدیل ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں