ایران کا اسرائیل سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک کی گرفتاری کا اعلان

نیٹ ورک قاسم سلیمانی کی قبر کو اڑانے، 5 صوبوں میں تعزیتی جلوسوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا: انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کی انٹیلی جنس وزارت نے کہا ہے کہ اس نے پانچ صوبوں میں مذہبی تقریبات کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے صہیونی دہشت گرد نیٹ ورک کے ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس نیٹ ورک سے 43 بم بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔

سرکاری خبر ایجنسی ’’مہر‘‘ نے وزارت انٹیلی جنس کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے تہران، کرمان، اصفہان، کردستان اور مازندران صوبوں میں ایک دہشت گرد صہیونی تنظیم کے ارکان کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتاریوں کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام ستمبر میں نوجوان خاتون مھسا امینی کی موت کی پہلی برسی کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔

گذشتہ برس 16 ستمبر کو مہسا کی موت کے بعد پورے ایران میں تاریخ کے بڑی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی تھی۔ ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے جن پانچ صوبوں کا تذکرہ کیا یہ پانچوں صوبے مظاہروں کے حوالے سے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ارکان ڈنمارک اور نیدرلینڈز میں واقع دہشت گرد مراکز کے ذریعے صہیونی ادارے کے انٹیلی جنس افراد سے منسلک ہیں۔ اسرائیل اس نیٹ ورک کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک مذکورہ بالا پانچ صوبوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایک منصوبہ کے تحت قاسم سلیمانی کی قبر کو اڑایا جانا تھا۔ قاسم سلیمانی کو 2020 میں امریکی فضائی حملے میں مار دیا گیا تھا۔

ایرانی انٹیلی جنس کے بیان میں دیگر دہشت گردانہ منصوبوں کا حوالہ بھی دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس نیٹ ورک کے دہشتگردوں نے عوامی اجتماعات، گیس سٹیشنز اور بجلی کے ٹاورز کو تباہ کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا تھا۔ ان کارروائیوں کا مقصد ملکی درآمدات اور برآمدات کو متاثر کرنا تھا۔

ثبوت فراہم کیے بغیر ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی تباہی پھیلانے والے 43 ریموٹ کنٹرول بم بھی قبضہ میں لے لیے ہیں۔ ان بموں کو محرم الحرام کے حوالے سے تعزیتی جلوسوں میں استعمال کیا جانا تھا۔ 20 دستی بم بھی پکڑے گئے۔

ایرانی بیان میں ضبط شدہ مواد کی ایک طویل فہرست کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں "دھماکہ خیز دھاتی مواد، ڈیٹونیٹرز، صنعتی کیمیکلز کی اقسام، الیکٹرانک پارٹس، ریموٹ کنٹرول، دھماکہ کرنے والے فیوز، پستول، شاٹ گن، بلیڈ ہتھیار اور دیگر سامان شامل ہے۔


بیان میں کہا گیا کہ سیلز کے گرفتار ارکان نے کئی تجرباتی کارروائیاں کیں ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں ڈنمارک اور ہالینڈ میں اپنے آجروں کے پاس بھیجا تھا۔

واضح رہے اس سال کے شروع میں بھی ایرانی انٹیلی جنس نے کرد اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی مجاہدین خلق تنظیم پر بھی ایسے ہی الزامات لگائے تھے۔ یورپی ملکوں کو ایرانی انتباہ بیلجیئم میں ایرانی سفارت کار اسد اللہ اسدی کی رہائی کے تقریباً دو ماہ بعد آیا ہے۔ اسد اللہ کو 2018 میں فرانس میں ایرانی اپوزیشن کے اجلاس کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے ذریعے دہشت گردانہ قتل کی کوششوں کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ہالینڈ اور ایران کے تعلقات حالیہ برسوں میں اس وقت تناؤ کا شکار ہوئے ہیں جب ڈچ حکام نے ایران پر 2015 اور 2017 کے درمیان اپنی سرزمین پر دو مخالفین کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں