سونے کے ورق پر ڈرائنگ آرٹ تیار کرنے والے سعودی آرٹسٹ جنہیں یہ فن قدرت نے ودیعت کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے فائن آرٹ کے ایک آرٹسٹ مہند الباشی نے ’سونے کے ورق‘ پر تجریدی آرٹ، پورٹریٹ اور خاکے بنا کراس میدان میں اپنا نام بنایا ہے۔ مہند کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فن کسی ادارے یا استاد سے نہیں سیکھا بلکہ اسے قدرت نے خود سکھایا ہے۔

تجریدی آرٹ میں سونے کے کاغذ پر پورٹریٹ اور کیریکیچر ڈرائنگ ایک مشکل ہنر ہے مگر مہند الباشی نے ہنرمندی سے دلوں کو چھو لینے والی اور حالات و واقعات اور مقامات کے لیے موزوں آرٹسٹک پینٹنگ تشکیل دے کراپنی تخلیقی مہارت کا ثبوت پیش کیا ہے۔

سونے کےورق پر ڈرائنگ

آرٹسٹ مہند الباشی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ گولڈ لیف گولڈن فلیکس ہوتے ہیں جن کا اپنا ایک خاص گوند ہوتا ہے۔ انہوں نے اِنہیں تجریدی پینٹنگ اور ایکریلک رنگوں کے ذریعے استعمال کیا۔ مختلف رنگ اور سپیکٹر کے لیے انہیں مخصوص مواد کے ساتھ آکسائڈائز بھی کیا جا سکتا ہے۔ آرٹ میں اسے صحیح طریقے سے اس قسم کے کاغذ کو صحیح فنکارانہ مقام اور احساس، فکر اور فنی حوالے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

پینٹنگز
پینٹنگز

آرٹ کہاں سے شروع کیا؟

آرٹسٹ مہند نے کہا کہ میں نے فن کی تعلیم کسی انسٹی ٹیوٹ میں نہیں لی بلکہ میں فطرتاً ایک فنکار ہوں۔ میں طائف شہر میں پیدا ہوا اور میں نے بچپن اور جوانی کا دور اس خوبصورت شہر میں گذارا۔ میں آرٹ کی تعلیم کی کلاسوں میں جاتا تھا جس سے میری ابتدائی صلاحیتیں سامنے آئیں۔

اس کی وجہ سے میں شہر میں ہونے والی بہت سی نمائشوں میں حصہ لیتا تھا۔ جب میں ریاض چلا گیا تو میں میری خواہش کاروباری کی تھی۔ مجھے امید نہیں تھی کہ میں آرٹ کو کاروبار میں تبدیل کر سکوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ اتفاق سے پینٹنگز کی ایک نمائش کے ذریعے آغاز کیا۔م یں نے ایسے کام تیار کیے جنہوں نے عوام کی پذیرائی حاصل کی اور وسیع شہرت پائی۔ مجھے اپنے فنی کیریئر میں ہر اس شخص کی حمایت حاصل ہوئی جو اپنے گھروں میں میری پینٹنگز حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔میں ان کا میں شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری پینٹنگز نے ماحول، گہرائی اور زندگی کی نبض کو رنگوں میں ڈاھالا، ان کرداروں کی دیکھ بھال کی جو سعودی ثقافت، رسوم و رواج، زندگی کی سادگی اور پرانے وقتوں کا اظہار کرتی ہیں۔

مصور مہند اپنی ایک پینٹنگ کے ساتھ
مصور مہند اپنی ایک پینٹنگ کے ساتھ

آرٹ کا پیغام

مہند نے کہا کہ "میرا خواب ہراس سعودی گھر میں ہے جو میرے فنکارانہ وژن، میرے نام اور لوگوں کے لیے میرے پیغام کی علامت کی علامت کو سمجھتے ہیں۔ میں آرٹ کو ایک قدرتی پودا سمجھتا ہوں جو خوشی، خوبصورتی اور تفکر میں اضافہ کرتا ہے۔ میں ہمیشہ خیال سے خیال کی طرف اور ایک مقام اور مرحلے سے دوسرے مقام اور مرحلے تک منتقل ہوتا ہوں۔

ہرعمر میں آرٹ کا ایک الگ مرحلہ اور ایک موقع ہوتا ہے۔ فن کے مختلف کاموں کے میدان میں نئی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے، آرٹسٹ کو خیالات، تخلیقی صلاحیتوں اور تجربات کا حامل ہونا چاہیے۔ ایک آرٹسٹ کو خوابوں، افکار اور تخلیقی صلاحیت کا منبع ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں