عراق میں داعش کے خلاف جنگ آزما امریکی اتحاد کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں داعش کے خلاف جنگ آزما امریکا کی قیادت میں اتحاد کا ایک ہیلی کاپٹر جمعرات کے روز گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ کرد سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹرکو پرواز کے دوران میں حادثہ پیش آیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ حادثے میں اتحاد کا کوئی جانی نقصان ہوا ہے اورنہ ہی اتحادی یا سویلین انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

عراق کے خود مختارشمالی علاقے کردستان کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کرد دارالحکومت اربیل سے قریباً 40 کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے الجویر کے قریب تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔

عہدہ دار نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر کے عملہ کے دونوں ارکان بچ گئے ہیں اور انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں فوجی اتحاد نے حالیہ برسوں میں عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔داعش نے 2014 میں عراق اور ہمسایہ ملک شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنی خودساختہ ’’خلافت‘‘ کا اعلان کیا تھا۔

اس جنگجو گروپ کو 2017 کے آخر میں عراق میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور عراقی فوج نے اس کے زیرقبضہ آخری علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا ، لیکن تب سے اس کے بہت سے جنگجو دور دراز، پہاڑی علاقوں میں روپوش ہوچکے ہیں اور وقفے وقفے سے مہلک حملے کرتے رہتے ہیں۔

بغداد نے 2021ء کے آخر میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ کچھ فوجی اب بھی عراق میں موجود ہیں لیکن ان کا مینڈیٹ مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور مشورے دینا ہے۔

امریکا کے قریباً ڈھائی ہزار فوجی اور اتحاد میں شامل دیگر ممالک کے کوئی ایک ہزار فوجی عراق میں موجود ہیں۔ وہ عراقی افواج کے زیرِانتظام اڈوں پر تعینات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں