نیجر کی سلامتی اور استحکام کے خواہاں ہیں: سعودی عرب

ہمسایہ ملک بنین کے صدر ٹیلون ثالثی کے لیے نیجر چلے گئے، نائیجریا کا بھی اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ مملکت جمہوریہ نیجر میں ہونے والے حالیہ واقعات پر گہری تشویش رکھتی ہے اور ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ نیجر کی سلامتی، استحکام، اور اس کے اداروں کی سالمیت کے بارے میں مملکت کی گہری دلچسپی ہے۔ سعودی عرب نیجر کے لوگوں کے ساتھ ہے اور ان سے مکمل یکجہتی کرتا اور مطالبہ کرتا ہے کہ ہر فریق استدلال، دانشمندی اور اعلیٰ ترین قومی مفاد کو ترجیح دے۔

نیجر میں بغاوت کی کوشش کی گئی ہے۔ صدارتی گارڈ کے ارکان نے بدھ کے روز صدر محمد بازوم کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد فوج نے انہیں رہا کرنے کے لیے "ڈیڈ لائن" دی تھی۔

بعد ازاں صدارتی گارڈ کے ارکان نے بزوم کے حامی مظاہرین کو انتباہی فائرنگ کر کے منتشر کر دیا جنہوں نے صدارتی رہائش گاہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ معزول صدر کو نیامی میں رکھا جا رہا ہے۔

نائیجیریا کے صدر پاؤلا احمد ٹینوبو کے اعلان کے مطابق بینن کے صدر پیٹرس ٹیلون ثالثی کے لیے نیجر جا رہے ہیں۔ ٹینوبو نے ابوجا میں ٹیلون سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر ٹیلون یہاں سے ثالثی کے لیے نیجر جا رہے ہیں۔ ہمسایہ ملک بنین کے صدر ٹیلون نے اپنی روانگی سے قبل کہا کہ صورتحال تشویشناک ہے اور ہم اس سے سنجیدگی سے نمٹ رہے اور تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نیجر میں آئینی نظم بحال کرنے کی ضرورت کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا مثالی بات یہ ہے کہ ہر چیز پر امن طریقے سے کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عمل کامیابی سے کرلیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں