18 گھنٹے سمندری موجوں میں رہنے والے سعودی ماہی گیر پربیتے خوفناک لمحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ماہی گیر ابراہیم عبدہ المتحمی سولہ سال کی عمر سے اپنی کشتی میں سوار ہوکر روزی روٹی کمانے کے لیے سمندر میں جایا کرتے تھے۔ ماہی گیری کے ذریعے انسان سمندر کے ساتھ وفاداری اور میل جول کی حالت میں رہتا تھا۔

تبدیلیوں کے باوجود ابراہیم عبدہ اپنی کشتی کو سنبھالنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے آخری سفر میں کشتی نے ان کو دھوکہ دے دیا۔ 80 سالہ ماہی گیر ابراہیم عبدہ کو ایک ایسے تجربہ سے گزرنا پڑا جو ان کی زندگی کا سب سے مشکل تجربہ ثابت ہوا۔ وہ القحطہ کے علاقے میں لہروں کی طاقت اور اونچائی کی وجہ سے پانی میں پھنس کر رہے گئے۔ ابراہیم عبدہ 18 گھنٹے بے رحم موجوں کے رحم و کرم پر رہے۔

ماہی گیر اپنے بیٹے کے ہمراہ
ماہی گیر اپنے بیٹے کے ہمراہ

معمر ماہی گیر خود پر بیتنے والے زندگی کے 18 خطرناک گھنٹوں کے حوالے سے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی سمندر کے بیچوں بیچ گزاری، میں رات 12 بجے مچھلیاں پکڑنے نکلا، اس امید پر کہ صبح 6 بجے مچھلیوں سے لد کرواپس لوٹوں گا لیکن کشتی کا انجن اچانک بند ہو گیا۔ سمندر کے وسط میں لہریں بلند تھیں اور ہوائیں تیز تھیں۔ یہ مشکل اور خوفناک لمحات تھے۔ میں سرحدی محافظوں کے بجاؤ کا منتظر تھا۔

جہاں تک ماہی گیر کے بیٹے کا تعلق ہے اس نے وضاحت کی کہ اس کے والد ماہی گیری کے لیے نجی کشتی کا استعمال کرتے تھے لیکن مشین کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ حیران رہ گئے۔

اس نے مزید کہا کہ والد نے موبائل فون پر کال کرنے کی کوشش کی لیکن البکاریہ نے اسے دھوکہ دیا۔ لڑکے نے بتایا کہ والد کی عدم موجودگی کے بعد میں نے سرحدی محافظوں کو ان کی تلاش کے لیے میسج بھیجا تھا۔ بیٹے نے بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے ان کے والد کو تلاش کرنے کا کام مشکل تھا۔

بیٹے نے بتایا کہ شام 6 بجے والد جزیرے کیڈنمبیل کے قریب 500 میٹر کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ وہ ہائی پریشر، ہائپوگلیسیمیا اور دل کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ ان کا علاج شروع کیا گیا اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں