حکومت کی متنازع عدالتی اصلاحات سے سلامتی کو خطرہ ہے: سربراہ اسرائیلی فضائیہ

خلیجی ریاستوں اور دیگر اسلامی ملکوں نے بھی قبلہ اول پر یہودی آباد کاروں کی دراندازی کی مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کو کالعدم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے کے پارلیمان کے فیصلے سے اسرائیل کی جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

واضح رہے نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کی طرف سے جن منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے اس نے مہینوں کے بے مثال احتجاج کو ہوا دی اور ، اسرائیلی معاشرے میں گہری تقسیم پیدا کردی ہے۔ اسی بنا پر ریزور فوجیوں کی ایک تعداد نے حکم عدولی کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنے ساتویں مہینے میں بحران پیر کو اس وقت بڑھ گیا جب پارلیمنٹ نے پہلی تبدیلیاں منظور کرلیں۔ جمعرات کو دیر گئے امریکی میڈیا کو اپنے انٹرویوز میں نیتن یاہو نے جارحانہ انداز میں اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے بنیادی قوانین میں سے ایک میں ترمیم ایک "معمولی اصلاح" تھی۔ اسے اسرائیلی جمہوریت کے خاتمے کے طور پر بیان کیا گیا ہے - میرے خیال میں یہ احمقانہ ہے۔ جب دھول اڑے گی تو ہر کوئی اسے دیکھ لے گا۔

نیتن یاہو نے اپنے منصوبوں کے نتائج کو مسترد کردیا ۔ دوسری طرف فضائیہ کے سربراہ ٹومر بار نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے دشمن اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

جمعہ کو اپنی افواج کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کے وقت میں وہ سرحدوں، ہماری ہم آہنگی اور ہماری بیداری کو جانچنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں چوکس اور تیار رہنا چاہیے جیسا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم ہوں گے۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ آیا وہ پیر 24 جولائی کی ترمیم کو منسوخ کرنے والے سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کی تعمیل کریں گے۔

دوسری طرف احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریزرو فوجیں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے خدمات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوج نے سروس سے کنارہ کشی کی درخواستوں میں اضافے کو تسلیم کیا اور کہا ہے کہ اگر یہ صورتحال دیر تک جاری رہی تو بتدریج جنگ کی تیاری کو نقصان پہنچے گا۔ سیاسی نگراں گروپوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ نئے قانون کے خلاف اقدامات کرے۔

قانونی کشمکش اگلے جمعرات سے اس وقت شروع ہو جائے گی جب سپریم کورٹ مارچ میں منظور کیے گئے اتحادی بل کے خلاف اپیل کی سماعت کرے گی۔ مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ طاقت میں آ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں