فلسطینی مزاحمت کاروں کا اسرائیلی بستی پر راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی مزاحمتی کارکنوں نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایک اسرائیلی رہائشی کمیونٹی پر راکٹ فائر کیا ہے، جب کہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اسے شمالی مغربی کنارے میں راکٹ کی باقیات ملی ہیں۔

خود کو "عیاش بریگیڈ" کہنے والے ایک گروپ کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ میں تنظیم نے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے رام اون پر ایک راکٹ داغا ہے۔

ویڈیو کے شائع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ "اس کی فورسز کو جنین کے شمال مغرب میں واقع قصبے سیلہ الحارثیہ کے قریب ایک پرانے راکٹ کی باقیات ملی ہیں، اور اس میں کسی زخمی یا نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

"عیاش بریگیڈ" کا نام رہ نما انجینیر یحییٰ عیاش کے نام پر رکھا گیا تھا جو مغربی کنارے میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہیں اسرائیل نے 1996ء میں غزہ میں قتل کر دیا تھا۔

پرانے راکٹ کو ایک ایسے وقت میں لانچ کیا گیا جب یہودی ہیکل کی تباہی کی یاد میں مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں۔

اسرائیلی کارکنوں اور پولیس نے بتایا کہ پبلک سکیورٹی کے وزیر اتمار بن گویر ان تقریباً 2,000 یہودیوں میں شامل تھے جنہوں نے جمعرات کو مسجد اقصیٰ کے صحنوں کا دورہ کیا اور پولیس نے ان میں سے 16 افراد کو حراست میں لے لیا۔

یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کا دورہ کرنے کی اجازت ہے جو اسلامی اوقاف کی تنظیم کے زیر انتظام ہے، لیکن انہیں وہاں عبادت سے پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

جمعرات کا راکٹ فائر ہونے کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کی رواں ماہ دوسری کوشش تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں