حکومتیں ناکام رہتی ہیں تو مسلم نوجوان قرآن کی توہین کرنے والوں کو’سزا‘دیں: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اگر مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتیں قرآن کی بے حرمتی کی اجازت دینے والے ممالک کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہیں تو مسلمانوں کو اسلام کی مقدس کتاب پر حملوں میں مدد کرنے والوں کو خود ’’سزا‘‘ دینی چاہیے۔

حسن نصراللہ ہفتے کے روز بیروت کے جنوب میں واقع مضافاتی علاقے میں یوم عاشور کے موقع پرجمع ہزاروں افراد سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کررہے تھے۔وہ اکثر اپنے پیروکاروں کو سیاسی پیغامات دینے کے لیے مذہبی مواقع کا استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے سویڈن اور ڈنمارک میں مٹھی بھر اسلام دشمنوں کے مظاہروں میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے یا اس کی بے حرمتی کے حالیہ واقعات کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی اجلاس کے نتائج پر نظر رکھنی چاہیے، جو پیر کو بغداد میں ہونے والا ہے۔اس میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے پر تنظیم کے ردعمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے رکن ممالک کو سویڈن اور ڈنمارک کی حکومتوں کو ایک ٹھوس، فیصلہ کن اور دو ٹوک پیغام دینا چاہیے کہ اگر قرآن مجید پر دوبارہ حملہ کیا جاتا ہے تو ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو مسلم نوجوانوں کو خود ’’مجرموں‘‘ کو سزا دینی چاہیے۔

تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس طرح کے بائیکاٹ اور سزا کا کیا مطلب ہونا چاہیے۔

مذہبی اجتماع کے شرکاء نے حزب اللہ، لبنان اور فلسطین کے جھنڈے اٹھا رکھےتھے اور وہ قرآن مجید کے تحفظ کے لیے نعرے بازی کررہے تھے۔انھوں نے مذہبی نعروں پر مشتمل بینرز بھی اٹھارکھے تھے اور نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہدائے کربلا کوخراجِ عقیدت پیش کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں