امارات میں مالیاتی جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی اداروں کے قیام کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدالتی کونسل نے امارات کے اٹارنی جنرل کی اقتصادی جرائم اور منی لانڈرنگ میں مہارت رکھنے والے وفاقی پراسیکیوشن اداروں کے قیام کی تجویز کو اپنی منظوری دے دی۔

امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی (وام ) نے اتوار کو بتایا کہ کہ یہ اعلان ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کے عدالتی نظام کو بہتر کرنا اور اس کے مالی استحکام کو تقویت دینا ہے۔

اس اہم قدم کا مقصد ملک کے قانونی فریم ورک کو عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور مالی جرائم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے خصوصی عدالتی اداروں کو متعارف کرانا ہے۔

معاشی جرائم کو نشانہ بنانے والے ان پراسیکیوشن دفاتر کی تشکیل ان تبدیلی کے منصوبوں کا حصہ ہے جنہیں "گورنمنٹ ایکسلریٹر" کہا جاتا ہے۔ یہ پروجیکٹ وزارت انصاف میں جاری ہیں۔ یہ منصوبے فیڈرل جوڈیشل کونسل کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں شروع کیے جا رہے ہیں جس کا حتمی مقصد یو اے ای کے عدالتی نظام میں پیشہ ورانہ اور قانونی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔
یہ خصوصی پراسیکیوشن ادارے معاشی جرائم کی مختلف شکلوں کی تفتیش اور کریک ڈاؤن میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ ادارے کارپوریٹ جرائم، دیوالیہ پن، مسابقتی ضابطے، مالیاتی مارکیٹ کے جرائم، املاک دانش اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیوں اور کسٹم کی چوری سے متعلق جرائم سے نمٹنے میں فعال کردار ادا کریں گے۔ امارات کا مقصد اپنی قومی معیشت کی حفاظت کرنا اور معیشت اور معاشرے دونوں پر معاشی اور مالیاتی جرائم کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

وام کے مطابق یہ ادارے متحدہ عرب امارات کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے عالمی مالیاتی اور کاروباری مرکز کے طور پر امارات کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ پروجیکٹ "وی دا یو اے ای 2031" ویژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں