نشے کا انجام موت یا قید: عراق منشیات سے نجات کیسے پائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

23 سالہ نوجوان محمد سات سالوں سے روزانہ تقریباً ایک درجن کیپٹاگون گولیاں کھا رہے ہیں لیکن اب وہ منشیات کی اس لت سے نجات پانا چاہتے ہیں، اس لعنت سے جس کے خلاف عراق بھرپور طریقے سے جنگ لڑ رہا ہے۔

اس وقت جب عراق اس بڑے بحران سے دوچار ہے، بعض اقدامات کی بدولت نوجوان محمد ایک نئے آغاز کی امید کر رہے ہیں۔

عراق، جس کی سرحدیں ایران، شام اور سعودی عرب سے ملتی ہیں، طویل عرصے سے خطے میں منشیات کی تجارت کے لیے ایک ٹرانزٹ پوائنٹ رہا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں، عراق کے اندر بھی منشیات کے استعمال میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے حکام کو اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور نشے کے عادی افراد کی بحالی پر اکسایا ہے۔

عراق میں منشیات کی سب سے عام قسم میتھمفیٹامائن یا کرسٹل میتھ ہے، جو عام طور پر افغانستان یا ایران سے آتی ہے۔ یہاں کیپٹاگون، ایمفیٹامائن کی ایک قسم بھی بے حد عام ہے جو شام میں صنعتی پیمانے پر تیار کی جاتی ہے اور عراق کے راستے سعودی عرب اور تیل کی دولت سے مالا مال دیگر خلیجی ریاستوں کو اسمگل کی جاتی ہے۔

بحالی مراکز کا قیام

محمد، جس نے فرضی نام استعمال کرنے پر اصرار کیا، ان 40 مریضوں میں سے ایک ہے جو اس بحالی کلینک میں زیر علاج ہے جسے عراقی وزارت صحت نے اپریل میں دارالحکومت بغداد میں کھولا تھا۔

نشے کے عادی یہ تمام افراد بحالی ہسپتال "القناة سینٹر برائے سماجی بحالی" میں اپنی رضامندی سے آئے تھے، ان میں محمد جیسے دیگر افراد بھی شامل ہیں، جو "10 یا 12" گولیاں کیپٹاگون گولیاں روزانہ لیتے ہیں۔ انہیں یہ لت 16 سال کی عمر میں لگی تھی۔

شام کی سرحد پر واقع مغربی الانبار صوبے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے بتایا کہ کیپٹاگون سے اس کا تعارف ایک فوڈ اسٹور پر کام کرنے والے ساتھیوں نے کرایا، جسے "زیرو ون" بھی کہا جاتا ہے۔

"یہ آپ کو متحرک بناتا ہے، آپ کو توانائی دیتا ہے اور آپ کو بیدار رکھتا ہے،" اس نے دوا کے بارے میں کہا۔

محمد نے بتایا کہ 2 ڈالر میں یہ گولی ہر جگہ عام دستیاب ہے"۔
پہلے دو ہفتے مرکز میں گزارنے کے بعد، وہ گھر واپس آیا، لیکن پھر دوبارہ نشے کا شکار ہونے کے خوف سے کلینک واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

مایوسی کا شکار محمد کا کہنا ہے کہ کیپٹاگون کی لت کا انجام "یا تو قید یا پھر موت" ہوتا ہے۔

ایک برباد کرنے والی آفت

ان کے آس پاس، بحالی مرکز کے اسپورٹس ہال کے پرسکون ماحول میں، تقریباً تمام عمر کے مرد ٹیبل ٹینس اور دوسرے کھیل رہے تھے، ان میں سے کچھ مسکرا رہے تھے۔ بعض کے چہروں پر تھکن عیاں تھی اور بعض چہرے تاثرات سے عاری تھے۔

اس میں خواتین کا سیکشن بھی شامل ہے

مریض عام طور پر اس مرکز میں تقریباً ایک ماہ تک قیام کرتے ہیں جبکہ مریضوں کو روزانہ انفرادی سیشن یا ہفتہ وار گروپ سیشنز کے ذریعے نفسیاتی مدد ملتی ہے۔

ڈسچارج ہونے کے بعد، وہ چھ ماہ کی مدت کے لیے ہفتہ وار چیک اپ کے لیے آتے ہیں۔
مرکز کے ڈائریکٹر، عبد الکریم صادق کریم کا کہنا ہے کہ کلینک میں "ہر عمر کے لوگ آتے ہیں،ان میں 14 اور 15 سال کی عمر کے لوگ بھی آتے ہیں، لیکن زیادہ تر بیس سال تک کے نوجوان ہیں۔"

انہوں نے "منشیات کی سب سے عام قسم کرسٹل ہے، عام طور پر نشے کی عادت کی ابتدا اس سے ہوتی ہے۔"
ان کے نائب، علی عبداللہ جو 2016 سے عراق میں منشیات کی کھپت میں اضافے پر نظر رکھتے ہیں، نے اسے "ایک طاعون قرار دیا جو افراد کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے"،

سکیورٹی آپریشنز

عراقی سکیورٹی فورسز اب انٹیلی جنس اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کی مدد سے کارروائیوں میں تقریباً روزانہ منشیات کی ضبطی اور گرفتاریوں کا اعلان کرتی ہیں۔

عراق کے نارکوٹکس ڈائریکٹوریٹ کے ترجمان حسین التمیمی نے بتایا کہ حکام نے اکتوبر اور جون کے درمیان 10,000 سے زائد مشتبہ افراد کو "منشیات سے متعلق جرائم پر حراست میں لیا ہے۔

سرکاری ایجنسی کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے 10 ملین کیپٹاگون گولیاں اور 500 کلوگرام (1,100 پاؤنڈ) دیگر منشیات بھی ضبط کیں جن میں تقریبا 385 کلو گرام کرسٹل میتھ بھی شامل ہے۔

یہ کارروائیاں اکثر علاقائی تعاون اور معلومات اکٹھی کرنے میں مشترکہ انٹیلی جنس کی وجہ سے کامیاب ہوتی ہیں۔

التمیمی کا کہنا ہے کہ "منشیات کے معاملہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے،" اس لیے مئی میں عراق کی میزبانی میں ایک علاقائی کانفرس میں سرحد پار حکام کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے "مشترکہ ڈیٹا بیس تخلیق" کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں "ہماری اور عرب ریاستوں کی مجاز خدمات" اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان ہفتہ وار روابط قائم ہوئے۔

اے ایف پی کے جمع کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، 2023 میں مشرق وسطیٰ میں کم از کم 110 ملین کیپٹاگون گولیاں پکڑی گئی تھیں اور جولائی کے وسط میں وزارت داخلہ نے جنوبی عراق میں کیپٹاگون بنانے والی ایک فیکٹری دریافت ہونے کی اطلاع دی، جہاں منشیات کی تیاری اب بھی جاری ہے۔

بغداد میں ایک مغربی سفارت کار کے مطابق، عراق کیپٹاگون تجارت کے لیے ایک اہم راہداری بن چکا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس سے ملحق اردن، منشیات کی تجارت کے لیے ایک اور اہم ملک نے اپنی سرحدیں مضبوط کر لی ہیں۔

سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً سات سال پہلے تک، عراق تقریباً خصوصی طور پر ایک ٹرانزٹ ملک تھا، لیکن اس میں بتدریج تبدیلی آئی ہے کیونکہ نقل و حرکت کے حقوق کی ادائیگی کے لیے منشیات ادا دی جاتی ہے۔''

ذرائع نے مزید کہا، "43 ملین کی آبادی والا ملک جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اقتصادی ترقی اور قوت خرید میں اضافے کی صورت میں، عراق کے لیے ایک حقیقی منڈی بن گیا ہے۔"

عراقی حکومت اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہے۔ اس لیے گرفتار کیے گئے عادی افراد کو جیل میں سمگلروں سے دور رکھنے کے لیے انبار (مغرب)، کرکوک (شمال) اور نجف (جنوبی) گورنری میں تین بحالی مراکز کھولے گئے ہیں۔

حکام تمام صوبوں میں اسی طرح کے مراکز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں