اسرائیل میں انسداد نسل پرستی کمیٹی کا سربراہ خود نسل پرستی کا نشانہ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایتھوپیا کے ایک سینیر سرکاری ملازم نے بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر نسلی امتیاز کا الزام عاید کرتے ہوئےکہا ہے کہ انہیں نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے حکومتی کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کو کم کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقات کے خلاف نسل پرستانہ طرز عمل کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

اٹارنی ایوکا زانا نے کہا کہ نسل پرستی اسرائیلی معاشرے میں سنجیدگی سے جڑی ہوئی ہے اور یہ صرف گئے وقتوں کا جرم نہیں ہے۔ اس لیے اس کے نقصانات سے چھٹکارا پانے کے لیے تندہی سے کام کرنے اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔

پچھلے چھ سالوں کے دوران نسل پرستی کی روک تھام کرنے میں بہت کچھ حاصل کیا گیا ہے، لیکن یہ اب بھی معاشرے میں مضبوط ہے بہت سی بنیادی سہولیات کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس کے شدید منفی اثرات ہیں۔ اس لیے مجھے اسے برطرف کرنے کے فیصلے سے حیرانی ہوئی۔

زانا کی پیدائش ایتھوپیا میں ہوئی تھی۔ وہ پچھلی صدی کے نوے کی دہائی کے اوائل میں سوڈان کے راستے نقل مکانی کرکے ایک مہم میں اسرائیل آئےتھے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیں اور میجر کے عہدے تک پہنچے۔ ملٹری سروس کے دوران اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی، پہلی اور دوسری یونیورسٹی کی ڈگریاں حاصل کیں اور ملٹری پراسیکیوشن میں تعینات ہوئے۔

جب انہیں فوج سے فارغ کیا گیا تو وہ سول پراسیکیوشن میں چلے گئے۔ چھ سال قبل ایتھوپیا کے یہودیوں کی بغاوت کے نتیجے میں وزیر انصاف آیلیٹ شیکڈ نے انہیں حبشیوں کے مصائب کا ازالہ کرنے کے لیے داخلہ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک سرکاری محکمہ تشکیل دینا ضروری ہے۔اس کا پہلا کام وزارت تک پہنچنے والی شکایات کے ذریعے نسل پرستی اور اس کے متاثرین کے حالات کا جائزہ لینا تھا اور اس نے دریافت کیا کہ اسرائیل میں نسل پرستی کا سب سے زیادہ شکار دو طبقے ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودی اور عرب باشندے ہیں۔ ایتھوپیائی یہودیوں کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کی شکایات 37 فیصد تھیں اور عرب شہریوں کی طرف سے (فلسطینی 1948) 27 فیصد شکایات ملیں۔۔ اس کے بعد مذہبی یہودی (الٹرا آرتھوڈوکس) 5 فیصد، روسی یہودی 5 فیصد، سیفاردی یہودی 3 فیصد، ہم جنس پرست 3 فیصد ہیں۔

زانا نے نسل پرستی کے رحجان کو جڑوں سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر دو اہم طبقات میں ایتھوپیا اور عربوں کے خلاف ہونے والی نسل پرستی کی روک تھام میں انہیں کچھ کامیابیاں بھی ملیں۔

دو ہفتے قبل زانا نے اسرائیل کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جنرل کانفرنس میں شرکت کے لیے جنیوا کا سفر کیا۔ وہاں انہوں نے باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اسرائیل نسل پرستی کو قبول نہیں کرتا بلکہ کئی طریقوں سے اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ تاہم وہ ملک واپس آئے۔ وزیر ڈیوڈ عمسالم کی جانب سے انہیں برطرفی کا نوٹس ملا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں