شاہ عبدالعزیزپبلک لائبریری نےعوامی ثقافتی جمالیات کےاحیاء کےلیے کیانئےاقدامات کیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے موجودہ دور کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہیں اپنے معیاری ثقافتی رجحانات کے ذریعے عمومی ثقافت کی جمالیات کےاحیاء کی خاطر نئے افق کھولے ہیں۔ ان نئے پہلوؤں میں سامعین اور محققین ثقافت کے لیےتخلیقی مواد اور دلچسپی کا سامان موجود ہے۔

لائبریری اپنے باقاعدہ سیمیناروں میں دستکاری اور سدو صنعت، فیشن اور زیورات سازی، قیمتی پتھروں یا رسم و رواج، روایات اور لوک داستانوں سے متعلق اپنے ثقافتی پروگرام پیش کرتی ہے۔ ورکشاپس اور سیمینارز کے ایک گروپ کے ذریعے ادب، ادبی تنقید ، ورثہ تاریخی مطالعہ اورادبی شخصیات کی رہ نمائی میں آج کلچر کے مختلف عناصر کی مکمل تصویر پیش کی جاتی ہے۔

شاہ عبدالعزیز لائبریری نے حال ہی میں کھلے مباحثے کے سیشنز، فنکارانہ امور، فائن آرٹ، تھیٹریکل، میوزیکل اور دیگر فنون لطیفہ کی پرفارمنسز کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے جو کہ تنوع اور کثیر الثقافتی کلچر کا ثبوت ہے۔ ۔ان ثقافتی سرگرمیوں میں مردو خواتین دونوں کے لیےیکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سدو اور ملبوسات کے فیشن

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے اپنے خواتین کے ثقافتی سیلون کے ذریعے جس کا مقصد سعودی عرب کے اندر اور باہر خصوصی خواتین کے ناموں کو اجاگر کرنا ہے ایک ایسے پروگرام کا انعقاد کیا جو سعودی عرب کے ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔

اس حوالے سے لائبریری کے زیراہتمام ایک ورکشاپ پیش کیا گیا جسے"سدو صنعت ماضی اور حال کے آئینے میں‘‘ کا عنوان دیا گیا۔ اس میں سدو فیشن ڈیزائن کی ماہر فاطمہ المطیری کی طرف سے پیش کردہ روایتی کڑھائی والے ملبوسات کی نمائش کی گئی ’سدو‘ فیشن آرٹ کو 2020ء میں سعودی عرب کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کے تحت ’یونیسکو‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ورکشاپ کا انعقاد لائبریری کے ہورائزن کلچرل سیلون میں سروسز برانچ اور ریاض میں خریص روڈ پر ریڈنگ ہالز کے اجلاسوں کے دائرہ کار میں کیا گیا اور اس مشہور دستکاری میں دلچسپی رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شہزادی نورا بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں روایتی ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی پروفیسر ڈاکٹر لیلیٰ البسام نے سعودی روایتی ملبوسات کے مجموعوں کا جائزہ لیا، ان کے ڈیزائن، مملکت کے مختلف خطوں میں سجاوٹ اور کڑھائی کے طریقوں کی نمائش بھی کی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ طریقے ہرعلاقے میں بسنے والے قبائل کے ورثے کا حصہ اور ماحول اور موسمی حالات کے ساتھ ساتھ ہر علاقے میں خام مال کے معیار کے مطابق پہچانے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے روایتی ملبوسات غائب ہوچکے ہیں اور دیگر جو اب بھی موجود ہیں فیشن کی دنیا میں سعودی عرب کے قدیم کلچر کا ثبوت ہیں۔

لائبریری میں بین الاقوامی ڈیزائنر ارویٰ العماری کی طرف سے "فیشن کی دنیا میں کامیابی کی کہانی" کے عنوان سے ایک ثقافتی سیشن بھی منعقد کیا گیا جسے ’بی بی سی‘ نے دنیا میں سب سے زیادہ تخلیقی ذہن کے طور پر منتخب کیا تھا۔

ثقافتی تکثیریت کے اس فریم ورک میں لائبریری نے ایک ورکشاپ پیش کی "زیورات اور قیمتی پتھروں کی دنیا میں غلط معلومات" جسے حنین القنیبط نے پیش کیا۔ اس میں اس نے زیورات، قیمتی پتھروں اور ہیروں کی دستکاری اور ڈیزائننگ کے فن پر روشنی ڈالی۔ اس نے قیمتی پتھروں کی اقسام، ان کے ذرائع اور ڈیزائن کو واضح کرنے پر توجہ مرکوز کی۔

لائبریری میں بہت سی نئی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں جو عام ثقافت کےدرمیان قربت کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیمینارز کے ذریعے یا قومی تقریبات کے ذریعے پیش کی جاتی ہیں۔ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے عوامی لائبریریوں میں دستاویزی فلموں اور سنیما کا آغاز کیا ہے دستاویزی فلم "آخر البدو" جو بدوی زندگی اور اس کے سماجی طور اطوار پر روشنی ڈالتی ہے کی نمائش کی جسے بہت زیادہ پسند کیا گیا۔

ایک اور دستاویزی فلم (الیس) بھی دکھائی گئی جو شہزادی الیس کاؤنٹیس آف ایتھلون (ملکہ وکٹوریہ کی پوتی) کے سفر سے متعلق ہے، جس نے 1938 کے موسم سرما میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ یہ برطانوی شاہی خاندان کے کسی فرد کا سعودی عرب کا پہلا نجی دورہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں