فیروزی پانیوں میں گھرا سعودی ’جزیرہ الوصل‘ جس کی سیر کی تمنا ہر کوئی کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے پرفضا سیاحتی مقامات میں مملکت کے جنوب میں واقع حقل گورنری کے ’جزیرہ الوصل‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ خلیج عقبہ کا سب سے دور دراز سعودی جزیرہ اور ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اس کے ساحل اپنے بھرپور قدرتی خطوں اور حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے موسم گرما کی تعطیلات میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ یہ جزیرہ آنے والے مہمانوں کو بھرپور تفریح کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جزیرے کا ساحل شفاف فیروزی پانی کی وجہ سے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ یہ تفریح سے بھرپور تفریحی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ شدید گرمی میں بھی اس کا موسم معتدل ہوتا ہے اور نمی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ جزیرہ الوصل کا رقبہ تقریباً 20 ہزار مربع میٹر ہے اور یہ ساحل سمندر سے تقریباً 555.6 میٹر کے فاصلے پر ہے جو ساحل سمندر سے مرجان کی چٹانوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کے کچھ حصے اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق جزیرے کا شمار مرجانی جزیرے کے طور پر کیا جاتا ہے۔

غوطہ خوری کے انسٹرکٹر عمر ابو العزنے سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" سے بات کرتے ہوئے جزیرے کی تلاش کے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا کہ "الوصل جزیرے" میں کئی قسم کی مرجان کی چٹانیں ہیں۔ ان میں دماغ ، میز اور تکیے کی شکل کی مرجان چٹانیں، فائر مرجان اور نرم مرجان چٹانیں النمو ، التربانی "ابلیون" اور الھامور مچھلیوں کا مسکن ہیں۔

جزیرے کا غروب آفتاب کا دلکش منظر طلمساتی حسن رکھتا ہے۔ خلیج عقبہ کے بالمقابل پہاڑ جزیرے کے تخلیقی منظر کو فوٹوگرافروں اور تخلیق کاروں کےلیے مزید دلکش بنا دتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں