منفرد مثال قائم، اسرائیلی سپریم کورٹ کے تمام 15 ججز اپیل سیشن میں شریک ہونگے

ججز کنیسٹ کی طرف سے منظور قانون کے خلاف دلائل کی سماعت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اپنی نوعیت کی پہلی مثال میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام 15 ججز وزیر اعظم کی قومی مذہبی حکومت کے تحت گزشتہ چند دنوں میں کنیسٹ کی طرف سے منظور کیے گئے قانون کے خلاف دلائل کی سماعت میں حصہ لیں گے۔ یہ اعلان پیر کے روز کیا گیا۔ یاد رہے نیتن یاہو اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے لیے کوشاں ہیں۔

عدالت کے ترجمان نے بتایا کہ ایسا سیشن ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا جس میں عدالت کے تمام ججز شرکت کریں گے۔

عدالت نے کہا "معقولیت کے معیار" کے خاتمے کے قانون پر سماعت 12 ستمبر کو 15 ججوں کے مکمل پینل کے ساتھ ہوگی۔ واضح رہے سپریم کورٹ عام طور پر ججوں کے چھوٹے پینل کے ساتھ مقدمات کی سماعت کرتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے کی انتہائی حساس نوعیت کی روشنی میں ججوں کے ایک پورے گروپ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی عدالتی ترامیم نے اسرائیل میں تاریخ سے سب سے بڑے بحران کو پیدا کردیا ہے۔ اسرائیلی معاشرہ میں گہری تقسیم پیدا آگئی ہے۔ معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کے مغربی اتحادی بھی تشوش کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ تقسیم فوج تک پھیل گئی۔ ریزرو فوجیوں نے کہا ہے کہ وہ کال اپ کی درخواستوں کا احترام نہیں کریں گے ۔ سابق سینئر فوجی افسران نے اسرائیل کی جنگی تیاری کو ممکنہ نقصان سے خبردار کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کو کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کو بتایا کہ فوج اب بھی بڑھتے ہوئے مظاہروں کی روشنی میں لڑنے کے لیے تیار ہے لیکن اسے طویل مدتی نقصان ہو سکتا ہے۔

یاد رہے نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمنٹ کی 120 میں سے 64 نشستوں پر قابض ہے۔ اس اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم سپریم کورٹ کو حد سے تجاوز کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے یہ ترامیم ایگزیکٹو سے موثر نگرانی کو ہٹا دیں گی اور طاقت کا غلط استعمال آسان ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں