اسرائیل: عدالتی اختیارات میں ترامیم سے بے چینی کی لہر موساد میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل میں بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل حکومت ملک کے عدالتی نظام کے پر کاٹنے کے لیے تیزی کے ساتھ سرگرم ہے۔

دوسری طرف عدالتی نظام میں متنازع اصلاحات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی مسلسل پھیل رہا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عدالتی اصلاحات کی مخالفت کرنے والوں میں نہ صرف فوج شامل ہے بلکہ ملک کا سب سے طاقت انٹیلی جنس ادارہ’موساد‘ بھی بےچینی کی لہر سے متاثر ہے۔

ہر صبح عمیر ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو خبردار کیا جا سکے کہ جمہوریت کو متنازع قانون سازی سے خطرہ ہے جس کا مقصد اسرائیل میں عدالتوں کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

عمیر جس نے اپنے سابقہ خفیہ کرداروں کی حساسیت کی وجہ سے اپنا پورا نام بتانے سے گریز کیا اور بتایا کہ وہ موساد کے ان سابق افسران میں سے ایک ہے جو حکومت کی عدالتی تبدیلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

پچھلے ہفتے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں حکمران اتحاد نے قانون سازی کا پہلا مرحلہ منظور کیا۔ اس پر لاکھوں اسرائیلیوں نے احتجاج کیا جو پہلے ہی کئی ماہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مظاہرین کی حمایت اسپیشل فورسز یونٹس میں اعلیٰ درجے کے ریزرو افسران اور ہوابازوں نے کی، انہوں نے ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے کی دھمکی دی۔ اب یہ سلسلہ موساد کے سابق ارکان میں پھیل گیا ہے۔

دو سابق افسران نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ موساد کے کچھ موجودہ افسران بھی احتجاج میں شامل ہوئے، جس کی انہیں اجازت ہے۔

عمیر نے کہا وہ فی الحال اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے موساد کو اپنی مشاورتی مدد روک رہا ہے۔

اس نے کہا کہ "میں نے گذشتہ 20 سالوں میں مختلف حکومتوں کی وفاداری کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے، یہاں تک کہ وہ بھی جن سے میں سیاسی طور پر متفق نہیں ہوں۔ میں نے گذشتہ سال انتخابی نتائج کو قبول کیا تھا لیکن جب (موجودہ حکومت) نے کھیل کے اصول تبدیل کیے یہ تنازع پیدا ہوگیا۔ انہوں نے ایک سرخ لکیر عبور کی اور چارٹر کی خلاف ورزی کی۔ میرے جیسے لوگ اب اخلاقی طور پر پابند نہیں ہیں‘‘۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ عدالتی تبدیلیاں جمہوریت کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ سپریم کورٹ "بہت مداخلت کرنے والی" ہے۔

موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی نے رائٹرز کو بتایا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ عدم اطمینان ایجنسی کی بنیادی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے۔

رائٹرز نے موساد کے دو دیگر سابق اہلکاروں سے بات کی جنہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ جنہیں اسرائیل کے سکیورٹی سسٹم پر قانون سازی کے اثرات کے بارے میں زیادہ خدشات ہیں۔

موساد کے سابق سربراہ ہیم ٹومر نے کہا کہ "میرے بہت سے دوست اور ساتھی جن کے ساتھ میں نے خدمت کی ہے وہ محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی سکیورٹی فورس کو کمزور کر رہا ہے"۔

ٹومر نے کہا کہ بیرون ملک موساد کو "عظیم احترام" کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نہیں جانتا کہ کیا یہ عظیم تعظیم کا احساس قائم رہے گا۔"

موساد کو طویل عرصے سے دنیا کی سب سے قابل جاسوس ایجنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے یورپ بھر میں لوگوں کا پیچھا کرنے اور نازی اہلکار ایڈولف ایچ مین کو پکڑنے جیسے قابل ذکر مشن انجام دیے۔

موساد کے ایک اور تجربہ کار اہلکار گل نے کہا کہ "جب آپ آپریشن میں ہوتے ہیں تو آپ کو سسٹم پر بھروسہ رکھنا ہوتا ہے اور کسی بھی چیز کو روکنا ہوتا ہے"۔

باخبر ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کی ڈیٹرنس صلاحیتوں کے بارے میں خدشات اس کے دشمنوں کی طرف سے محسوس کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے بدامنی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بات کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے۔

موساد کے ایک اور سابق سربراہ یوسی کوہن نے "اس وقت اسرائیل کی قومی سلامتی" کے بارے میں اپنے خدشات کے بارے میں بات کی۔

کوہن نے 23 جولائی کو روزنامہ ’یدیعوت احرونوت‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ "ایک ایسے وقت میں جب ایرانی خطرہ ہم پر متعدد محاذوں سے منڈلا رہا ہے، ہمیں اسرائیل کی سلامتی کی فکرمیں رہنا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں