منفرد اشیاء سے اچھوتے ڈیزائن تخلیق کرنے والی نوجوان سعودی فیشن ڈیزائنرز سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"مجھے ہر وہ کام پسند ہے جو تخلیقی اور منفرد ہو۔ اس لیے میرے منفرد اور اچھوتے آرٹ کو بے حد سراہا جاتا ہے۔‘‘

یہ کہنا تھا ابھرتی ہوئی سعودی فیشن ڈیزائنر ریم عبدالرحمن کا جو ماحول دوست مواد کا استعمال کرتے ہوئے ملبوسات تیار کرتی ہیں اور فیشن کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کو شاندار کامیابی میں بدل رہی ہیں ۔

انہوں نے واٹر کلر، آئی لائنر پین، کاجل، پیاز، ڈونٹس اور شوگر گرینولز کا استعمال کرتے ہوئے، ایسے ڈیزائن تیار کیے جو دیکھنے والی آنکھ کو حیران کر دیتے ہیں۔

ریم عبدالرحمٰن سعودی عرب میں بہت سے فیشن ہاؤسز اور کمپنیوں کے لیے فری لانس السٹریٹر اور ڈیزائنر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔اور اس وقت آرٹ کے دلدادہ افراد کو تربیت بھی دے رہی ہیں۔ العربیہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بھرپور فنی سفر پر روشنی ڈالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میری زندگی کے آغاز سے ہی میرا یہ شوق تھا، پھر یہ ایک مستقل عادت اور پختہ معمول بن گیا۔ بچپن ہی میں میری والدہ نے اس صلاحیت کو دیکھا اور نہ صرف یہ حوصلہ افزائی کی کہ میں اسے جاری رکھوں ، بلکہ انہوں نے مجھے تمام وسائل مہیا کیے اور اس سلسلے میں مزید تعلیم اور تربیت کا اہتمام بھی کیا۔

عملی سطح پر کام کا آغاز کرتے ہوئے پھر انہوں نے سب سے پہلے عبایا تیار کرنا شروع کیے، جسے کافی پسند کیا گیا۔

سوشل میڈیا آنے کے بعد انہیں مزید پذیرائی ملی اور ان کا کام دوردراز بھی پسند کیا جانے لگا۔

ان کے کام سے متاثر ہوکر بعض آرٹ اسکولوں نے انہیں آرٹ کے دلدادہ دیگر افراد کو سکھانے پر آمادہ کیا۔ اور اب وہ انٹرنیٹ پر متعدد طلبہ کو مہارتیں سکھا رہی ہیں۔

اپنے اس تجربے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "میں اپنے آن لائن کورسز کے ذریعے دنیا بھر سے نوآموز لڑکیوں کی مدد کرنے اور ان کی مہارتوں کو فروغ دینے کی خواہاں تھی۔"

تخلیق اور محرکات

اپنی تخلیقات کے لیے ان اشیاء کا انتخاب کیسے کرتی ہیں، اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ''میرا تخیل وسیع ہے اور میرے آس پاس کی کوئی بھی چیز مجھے متاثر کر سکتی ہے''

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شے انہیں دے دی جائے تو وہ اس سے خوبصورت لباس بنا سکتی ہیں۔

"کسی تخلیق کے لیے الہام اور خیال بنیادی عنصر ہیں۔یہ ممکن ہے کہ میں کچھ دیکھوں اور خیال میں اسے لباس کی صورت ڈھالنے کی کوشش کروں۔" انہوں نے کہا۔

اس کے علاوہ ، ''کچھ اچھا لگے تو میں فورا اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرتی ہوں۔اور بعض اوقات میں کسی خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ارد گرد اشیاء تلاش کرتی ہوں۔"'

انہوں نے کہا کہ عربی میں اس طرح کے کورسز کم ہیں ، اس لیے انہوں نے دوسروں کو سکھانے کا سوچا۔
جو لوگ سیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے انہوں نے بتایا کہ وہ متعدد کورسز پیش کر رہی ہیں ۔جن میں فیبرکس ڈیزائننگ ، فیشن ڈیزائننگ وغیرہ شامل ہیں۔

مستقبل میں وہ چاہتی ہیں کہ ان کا کام سعودی عرب اور صرف خلیجی ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ وہ اپنی تخلیقات اور تعلیمی مواد کو دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں