شام میں داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق، نئے جانشین کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے جمعرات کے روز اپنے لیڈر ابوالحسین الحسینی القرشی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔القرشی کے بارے میں گروپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ شام کے شمال مغربی علاقے میں ایک مخالف جنگجو گروپ کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا تھا۔

داعش کے ایک ترجمان نے ٹیلی گرام پیغام رسانی ایپ پر اپنے چینلز پر ایک ریکارڈ پیغام جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ان کے لیڈر شام کے صوبہ ادلب میں شدت پسند گروپ ہیئۃ تحریرالشام کے ساتھ براہ راست جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔

ترجمان نے اس پیغام میں داعش کے نئے سربراہ کا بھی اعلان کیا ہے اوراس کا نام ابی حفصان الہاشمی القرشی بتایا ہے۔وہ عراق اور شام میں برسرپیکار اس گروپ کے پانچویں سربراہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ داعش کا سنہ 2014ء میں عراق اور شام میں آناً فاناً ظہور ہوا تھا اور انھوں نے حملوں کی تندوتیز لہر میں ان دونوں ملکوں کے 40 فی صد سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا اور وہاں اپنی خود ساختہ ’’خلافت‘‘قائم کرلی تھی۔

اس کے بعد امریکا کی قیادت میں فوجی اتحاد نے اس گروپ کے خلاف جنگ لڑی تھی اور2017ء کے آخر تک داعش کی خودساختہ خلافت کا خاتمہ ہوگیا تھا اور اس کے زیرِقبضہ علاقے واگزار کرا لیے گئے تھے۔

اس شدت پسند گروپ کی سخت گیر اور دہشت گردی سے بھرپور حکومت کے دوران میں جنگجوؤں نے کئی ایک غیرملکیوں کے سرقلم کیے تھے اور ان کی کارروائیوں کے نتیجے میں عراق اور شام کی ایک بڑی مقامی آبادی کو دربدر ہونا پڑا تھا۔

داعش کو 2017 میں عراق اور دو سال بعد شام میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس کے بچ جانے والے جنگجو روپوش ہوگئے تھے۔اس کے سلیپر سیل اب بھی دونوں ممالک میں حملے کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں داعش نے اپنے سابق سربراہ ابو الحسن الہاشمی القرشی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ان کے پیش رو ابو ابراہیم القرشی فروری 2022ء میں صوبہ ادلب میں امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔اس گروپ کا پہلا سربراہ ابوبکر البغدادی اکتوبر 2019 میں ادلب ہی میں مارا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں