کیا نیتن یاہو نااہل ہوجائیں گے؟ اسرائیل میں سپریم کورٹ نے اپیلوں کی سماعت شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کی سپریم کورٹ آج جمعرات کو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحاد کے اقدامات کے خلاف اپیلوں کے سلسلے میں پہلی سماعت کر رہی ہے جن کی وجہ سے ایک قانونی بحران پیدا ہوچکا ہے اور مہینوں سے جاری احتجاجی مظاہروں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مانیٹرنگ گروپس اور اپوزیشن کے قانون سازوں کی طرف سے جمع کرائی گئی اپیلوں میں عدالت سے کچھ عدالتی ترامیم کے خلاف فیصلہ دینے کا کہا گیا ہے جنہیں حکمران اتحاد منظور کرنا چاہتا ہے۔

سپریم کورٹ، جسے بہت سے لوگ طویل عرصے سے بنیادی حقوق کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں، سخت جانچ پڑتال کی زد میں رہتا ہے جب کہ بعض دوسرے اسے حد سے تجاوز کرنے والے ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

نااہلی ترمیم

جمعرات کو سنائی جانے والی اپیل میں اس "بنیادی قانون" میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں وزیر اعظم کو نااہل یا نااہل قرار دینے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے محدود شرائط طے کی گئی ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ چونکہ نیتن یاہو پر بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے تو کنیسٹ (اسرائیل کی پارلیمنٹ ) نے نیتن یاہو کے حق میں یہ قانون سازی کرکے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا، اس لیے اس ترمیم کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔

اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد جمہوری طور پر منتخب ہونے والے کسی بھی رہنما کو غلط طریقے سے بے دخلی سے بچانا ہے۔

معقولیت کی دلیل

12 ستمبر کو سپریم کورٹ، اسرائیلی تاریخ میں پہلی بار، 15 ججوں کا پورا بنچ ایک بنیادی قانون میں ترمیم کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے بلائے گی جو خود اس کے اپنے اختیارات پر قدغن لگاتی ہے۔

24 جولائی کو منظور ہوئی یہ قانون سازی عدالت کے پاس حکومت اور وزراء کے فیصلوں یا تقرریوں کو کالعدم کرنے کے لیے موجود ٹولز میں سے ایک کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ ٹول عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی کارروائی کو غیر معقول قرار دے۔

اس قانون سازی نے اسرائیل میں ہنگامہ برپا کر دیا اور عدالت میں فوری درخواستیں دائر کیں جس میں کہا گیا کہ اسرائیل کے جمہوری چیک اینڈ بیلنس کی خلاف ورزی کرنے پر اسے ختم کر دیا جائے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمولی اصلاحی اقدام ہے جس کا مقصد ایک ایسی عدالت کو لگام دے کر حکومت کے شعبوں کے درمیان توازن بحال کرنا ہے جو بہت زیادہ مداخلت پسند بن چکی ہے۔

آئینی دلدل

نااہلی اور معقولیت کے دلائل دونوں ان قوانین کا حصہ ہیں جنہیں عدالت اب تک کالعدم کرنے سے گریزاں ہے۔

کچھ لوگوں نے اسرائیل میں کسی بنیادی قانون کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کو "عدالت کو تباہ کن قانونی ہتھیار" کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ ممکنہ طور پر موجودہ بحران کو مزید بڑھا دے گا۔

چونکہ اسرائیل کے پاس کوئی تحریری آئین نہیں ہے، اس کی بجائے وہ ان بنیادی قوانین پر انحصار کرتا ہے جو کچھ حقوق اور آزادیوں کو متعین کرتے ہیں اور حکمرانی کے قواعد قائم کرتے ہیں۔اس کا وقار عام قوانین سے برتر ہے۔

لیکن بنیادی قوانین کو اسرائیل کی یک ایوانی پارلیمنٹ میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے آسانی سے شامل یا ترمیم کیا جا سکتا ہے، جس پر زیادہ تر حکومت کے اتحادیوں کا غلبہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی قوانین پر عدالتی نگرانی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہے چاہے عدالتی نظرثانی کا دائرہ مبہم ہی کیوں نہ ہو۔

عدالت کے ناقدین اسے ایک مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں جو مقننہ کے اختیار کی خلاف ورزی ہوگی۔

نیتن یاہو کا موقف

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے 31 جولائی کے ایک بیان میں اپنے لیڈر کے حالیہ موقف کی تائید کی کہ "اسرائیلی حکومتوں نے ہمیشہ قانون اور عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے، اور عدالت نے ہمیشہ بنیادی قوانین کا احترام کیا ہے۔ اسرائیل میں قانون کی حکمرانی، اور طاقتوں کا توازن۔۔یہ دونوں بنیادیں اسرائیل میں قانون کی حکمرانی کی بنیاد بنتی ہیں۔ ان اصولوں میں سے کسی ایک سے بھی انحراف اسرائیلی جمہوریت کو شدید نقصان پہنچائے گا، جس کے لیے ان دنوں پرسکون، مکالمے اور ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔"

مزید اپیلیں: ججز پینل

7 ستمبر کو عدالت وزیر انصاف یاریو لیون کو اسرائیل کے ججوں کا انتخاب کرنے والی کمیٹی کو بلانے کے لیے مجبور کرنے کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

پینل جنوری سے عدلیہ کے خلاف جنگ کا مرکز رہا ہے جب لیون نے حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کا اعلان کیا، جس میں کمیٹی کے میں تبدیلی بھی شامل ہے جس سے ججوں کے چناؤ کے لیے حکومتی اتحاد کو برتری مل جائے گی۔

اگرچہ اس سلسلے میں ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کی توثیق ہونا باقی ہے۔ جبکہ کمیٹی کی تقدیر غیر واضح ہے، بنچ کی اسامیوں کو پر نہیں کیا جا رہا۔ اکتوبر کے وسط سے ان آسامیوں میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ایک اور جسٹس شامل ہوں گے۔

نیتن یاہو استعفیٰ دیں!

عدالت کے پاس ایک اور اپیل ہے، لیکن اس پر ابھی تک سماعت نہیں ہوئی ہے۔

اس اپیل میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی درخواست کی گئی اور مفادات کے تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ نیتن یاہو مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں ، اس لیے وہ عدالت سے متعلق ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

اسرائیل میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ نیتن یاہو قانونی نظام میں ترامیم کے ذریعے اپنے خلاف عائد فرد جرم واپس لینے کے منتظر ہیں۔

نیتن یاہو اپنے مقدمے اور اس فیصلے کے درمیان کسی بھی تعلق سے انکار کرتے ہیں اور اسے اپنے خلاف سیاسی مہم قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں