اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے پر چھاپے کے دوران فلسطینی نوجوان کو شہید کر دیا

قابض فوج کے مطابق گولی مشتبہ افراد پر چلائی گئی جنہوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور بارودی مواد سمیت پتھراؤ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک چھاپے کے دوران ایک 18 سالہ فلسطینی محمود ابو سعن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعی برسوں میں رونما ہونے والی مہلک ترین واقعہ میں سے ایک ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے مشتبہ افراد پر گولی چلائی جنہوں نے شمالی مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے ارد گرد کام کرنے والے فوجیوں پر فائرنگ کی اور دھماکہ خیز مواد اور پتھر پھینکے۔ فوج نے کہا کہ ایک شخص کو گولی لگی لیکن افواج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

وزارتِ صحت نے کہا کہ محمود ابو سعن کو طولکرم میں سر میں گولی ماری گئی جس کے بارے میں فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’وفا‘‘ نے کہا کہ یہ قریبی پناہ گزین کیمپ میں ہونے والا ایک فوجی آپریشن تھا جو فلسطینیوں کے ساتھ تصادم کی وجہ بن گیا۔

طولکرم کے علاقے میں دو کیمپوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کے طور پر اقوام متحدہ ایجنسی کے پاس تقریباً 40,700 فلسطینی رجسٹرڈ ہیں۔ وہ فلسطینی پناہ گزین یا ان کی اولادیں ہیں جنہیں زبردستی نکال دیا گیا یا وہ اپنے گھروں سے بھاگ گئے تھے جب 1948 میں جنگ ہوئی جس کا تعلق اسرائیل کی تخلیق سے ہے۔

مغربی کنارے میں گذشتہ 15 مہینوں میں اسرائیلی چھاپوں، فلسطینی سڑکوں پر حملوں اور فلسطینی دیہاتوں پر یہودی آباد کاروں کے ہنگاموں کے دوران تشدد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘جو کہ غزہ کے ناکہ بندی والے علاقے پر حکومت کرتی ہے، نے ابو سعن کی ہلاکت پر تعزیت کی لیکن اس کے تحریک کا رکن ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ تحریک نے ایک بیان میں کہا۔ "ہمارے لوگ قبضے کے خاتمے تک اپنا انقلاب جاری رکھیں گے۔"

اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا جو ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی ایک آزاد ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے وہاں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھی ہے جسے زیادہ تر ممالک غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں