متحدہ عرب امارات:اتحاد ریل کی تکمیل کا عمل جاری، خلیجی ریلوے نیٹ ورک سے امیدیں وابستہ

200 بلین ڈالر کے منصوبے سے ملک ریلوے کے عالمی نقشے پر مضبوطی سے ابھرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
26 منٹ read

متحدہ عرب امارات کا بلند عزم اتحاد ریل نامی منصوبہ اس وقت تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے جو ملک کے اندر اور باہر کے وسیع خطے میں لوگوں کا سفری طریقے تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت اور کاروبار کے انعقاد میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے بن رہا ہے۔ مستقبل کے اس ریل نیٹ ورک کا مقصد ملک کے لیے 200 بلین ڈالر کے اقتصادی مواقع پیدا کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے طول و عرض میں مال بردار خدمات کے آغاز اور خطے میں آئندہ لگژری ریل سروس کے اعلان کے سے آغاز کرکے اتحاد ریل ایک عظیم منصوبے پر آگے بڑھ رہا ہے جس کا اعلان پہلی بار 14 سال پہلے ہوا تھا۔ اور اس کا مقصد تمام سات امارات کو مربوط کرنا اور ملک کی بڑی بندرگاہوں اور بڑے لاجسٹک مراکز کو باہم منسلک کرنا ہے۔

اتحاد ریل کی مال بردار ٹرین (فراہم کردہ: اتحاد ریل)
اتحاد ریل کی مال بردار ٹرین (فراہم کردہ: اتحاد ریل)

اتحاد ریل کو 2009ء میں وفاقی قانون نمبر 2 کے تحت متحدہ عرب امارات کے قومی ریل نیٹ ورک کی تعمیر و ترقی اور ملک کے قومی ریل نیٹ ورک کے آپریشن کے اختیارات کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں صنعت، مینوفیکچرنگ، پیداوار، آبادی اور درآمد/برآمد کے اہم مقامات کو ملانا اور جی سی سی ریلوے نیٹ ورک کے منصوبہ شدہ ایک اہم حصے کو تشکیل دینا تھا۔

اتحاد ریل کا نیٹ ورک پہلے سے ہی سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت کو بہتر کر رہا ہے جس سے نئی تجارتی راہداریوں اور سفر کے مواقع کھل رہے ہیں۔ یہ ریلوے نیٹ ورک ابوظہبی اقتصادی ویژن 2030ء اور یو اے ای کے صد سالہ 2071ء کے ساتھ مل کر تیار کیا اور چلایا جا رہا ہے۔

2016ء سے اتحاد ریل کامیابی سے 264 کلومیٹر پر محیط ایک ریلوے راستہ چلا رہی ہے جو ابوظہبی کے جنوب مغربی حصوں شاہ اور حبشان کے ذرائع سے دانے دار گندھک کو الروَیس کے صنعتی مرکز تک پہنچاتی ہے جو ابوظہبی شہر سے تقریباً 240 کلومیٹر مغرب میں ہے۔

تاہم اتحاد ریل (کے لیے ترقی اور پیش رفت) کا ایک اہم لمحہ دسمبر 2021ء میں آیا جب متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے یو اے ای ریلویز پروگرام کا آغاز کیا۔ اس اقدام کا مقصد سامان اور مسافروں دونوں کے لیے ریلوے کے ایک وسیع نیٹ ورک کو مربوط کرکے ملک میں نقل و حمل کے شعبے میں انقلاب لانا اور ایک پائیدار مستقبل کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔

50 بلین درہم کی سرمایہ کاری والے متحدہ عرب امارات کا ریلوے پروگرام تین اسٹریٹجک منصوبوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک ملک کے نقل و حمل کے نقشے کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اتحاد ریل انجن (فراہم کردہ: اتحاد ریل)
اتحاد ریل انجن (فراہم کردہ: اتحاد ریل)

مال بردار نیٹ ورک کو فعال کرنا

مال بردار نیٹ ورک کے پہلے حصے میں متحدہ عرب امارات کے قومی ریل نیٹ ورک کی کامیابی سے تکمیل دیکھنے کو ملی جس کے مکمل طور پر فعال ہونے کا اعلان شیخ محمد بن راشد نے اس سال فروری میں کیا۔

انہوں نے اس وقت کہا تھا: "ہمیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی کارکردگی پر فخر ہے جنہوں نے ایک بلند ارادہ، سٹریٹجک منصوبے کی تعمیر کے لیے برسوں محنت کی ہے جو ہماری قومی معیشت کو مزید بلندیوں تک لے جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا: "ایک قومی ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے امارات کو ملانے سے ہماری صلاحیتوں اور مسابقت میں مضبوطی آئے گی اور ہمارے اتحاد کو مستحکم ہوگا۔"

دبئی کے نائب صدر اور حکمران شیخ محمد بن راشد نے باضابطہ طور پر متحدہ عرب امارات کے مال بردار ٹرین نیٹ ورک کا افتتاح کر دیا ہے جو ملک کے عظیم قومی نیٹ ورک منصوبے اتحاد ریل کا تازہ ترین مرحلہ ہے۔ (وام)
دبئی کے نائب صدر اور حکمران شیخ محمد بن راشد نے باضابطہ طور پر متحدہ عرب امارات کے مال بردار ٹرین نیٹ ورک کا افتتاح کر دیا ہے جو ملک کے عظیم قومی نیٹ ورک منصوبے اتحاد ریل کا تازہ ترین مرحلہ ہے۔ (وام)

جدید ترین فریٹ نیٹ ورک سامان کی ہموار اور مؤثر نقل و حمل کی اجازت دیتا ہے۔ یہ فیکٹری سے صارف تک تیز اور شفاف منتقلی کو یقینی بناتا اور یوں ملک کی تجارت اور معیشت کو تقویت دیتا ہے۔ نیٹ ورک 38 لوکوموٹیوز ( مال بردار انجن) اور 1,000 سے زیادہ ویگنوں کے بیڑے پر مشتمل ہے۔

ہر مال بردار انجن 4,500 ہارس پاور کی طاقت کے ساتھ کام کرتا ہے جو کہ 3,400 کلو واٹ کے برابر ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں طاقتور ترین مال بردار ٹرین انجنوں میں سے ایک ہے۔

مجموعی طور پر 11 ٹھیکیداروں، 25 مشیروں اور 28,000 ماہرین نے اس منصوبے پر کام کیا ہے جسے مکمل ہونے میں کام کے 133 ملین گھنٹے لگےاور اس میں 180 سرکاری اداروں سے 40,000 منظوریاں شامل تھیں۔

یکم اپریل 2021ء کی یہ زیرِ نظر تصویر متحدہ عرب امارات کے المرفا میں اتحاد ریل نیٹ ورک کی ایک ٹرین کی ہے۔متحدہ عرب امارات اپنے دلیرانہ بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے مشہور ہے۔ (اے ایف پی)
یکم اپریل 2021ء کی یہ زیرِ نظر تصویر متحدہ عرب امارات کے المرفا میں اتحاد ریل نیٹ ورک کی ایک ٹرین کی ہے۔متحدہ عرب امارات اپنے دلیرانہ بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے مشہور ہے۔ (اے ایف پی)

مسافروں کی نقل و حمل

اتحاد ریل 2030ء تک سمارٹ ٹرانسپورٹیشن سلوشنز کے ساتھ مربوط ایک مسافر سروس شروع کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے جو ہر سال 36.5 ملین سے زیادہ مسافروں کو منتقل کرنے کے ہدف رکھتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے طول و عرض میں امارات کو ملانے کے لیے نیٹ ورک کی توسیع کی تعمیر جنوری 2020ء میں شروع ہوئی جو سعودی عرب کی سرحد پر واقع غویفت سے لے کر مشرقی ساحل پر فجیرہ تک ہوگی۔ بڑی نئی پیشرفت پہلے ہی 2023ء میں دیکھی جا چکی ہے جب اتحاد ریل نے نیٹ ورک کی توسیع کا افتتاح کیا جو تقریباً 900 کلومیٹر پر محیط تمام سات امارات کو ملاتی ہے اور پورے متحدہ عرب امارات میں مال بردار آپریشن شروع کیا تھا۔

اس سال کے شروع میں یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ لگژری مسافر ریل گاڑیاں فجیرہ کی امارات اور ابوظہبی کے صحرائے لیوا کے درمیان چلائی جائیں گی جو اٹلی کے آرسنیل گروپ کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے حصہ ہوگا۔

اس معاہدے سے خلیجی ملک میں اورینٹ ایکسپریس طرز کی سروس آنے کی توقع ہے جسے بعد میں پورے جی سی سی میں توسیع دی جائے گی۔

15 لگژری کوچز کی شکل و صورت میں اماراتی ثقافت کا ڈیزائن ہو گا اور یہ اٹلی کے جنوب میں بنائے جائیں گے۔ ایک بار فعال ہو جائے تو یہ ٹرین ابوظہبی اور دبئی سے ہوتی ہوئی فجیرہ تک جائے گی جہاں پہاڑی مناظر کے ساتھ سمندر دیکھنے کو ملے گا جو مسقط کی سرحد کی طرف ہے اور اس سفر میں یہ میزیرا اور صحرائے لیوا سے گزرے گی۔ اتحاد ریل نے اُس وقت العربیہ انگریزی کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ جون میں اتحاد ریل نے اعلان کیا تھا کہ اس کا پہلا مسافر ٹرین اسٹیشن فجیرہ میں واقع ہوگا اور مکمل ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کے 11 علاقوں کو السیلہ سے فجیرہ تک ملا دے گا۔

ایک دفعہ ریل سروس شروع ہوجائے تو متحدہ عرب امارات کے مسافر اپنی گاڑیاں چھوڑ سکیں گے اور ابوظہبی سے دبئی کا سفر صرف 50 منٹ میں کر سکیں گے۔ جبکہ ابوظہبی سے 100 منٹ کا سفر انہیں فجیرہ لے جائے گا اور دبئی اور فجیرہ کے درمیان 50 منٹ کا سفر اور ابوظہبی اور رویس کے درمیان 70 منٹ کا سفر بھی ممکن ہوگا۔

مسافروں کو اسٹاپس تک پہنچانے کے لیے لاجسٹک بھی تیار کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں مئی میں اس مشرقِ وسطیٰ ریل ایونٹ کے دوران اتحاد ریل اور سفری سہولت کی ایپ اُبر نے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس اشتراک کے ایک حصے کے طور پر دونوں ادارے پورے متحدہ عرب امارات میں اپنی خدمات کو وسعت دیتے ہوئے پہلے اور آخری میل کے درمیانی رابطے کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ریلوے لائن کا دو تہائی سے زیادہ حصہ پہلے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ اتحاد ریل نے کہا کہ میگا نیٹ ورک مسافروں کو بہت سے جدید فوائد پیش کرے گا جو سستے، تیز، محفوظ اور زیادہ قابلِ اعتماد ہوں گے اور ماحولیاتی طور پر زیادہ پائیدار خدمات پیش کریں گے۔ العربیہ انگلش کو فراہم کردہ ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ معاشی اعتبار سے یہ ریل نیٹ ورک کاروباری اداروں کو ان کے وقت اور وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کی ترغیب دے گا۔

یکم اپریل 2021ء کی یہ تصویر متحدہ عرب امارات کے المرفا میں اتحاد ریل نیٹ ورک کی ایک ٹرین کی ہے۔[اے ایف پی]
یکم اپریل 2021ء کی یہ تصویر متحدہ عرب امارات کے المرفا میں اتحاد ریل نیٹ ورک کی ایک ٹرین کی ہے۔[اے ایف پی]

یو اے ای ریلوے پروگرام صرف بہتر نقل و حمل کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ملک اور لوگوں کے لیے خاطر خواہ اقتصادی، معاشرتی اور ماحولیاتی فوائد پیدا کرنا ہے۔ اگلے 50 سالوں میں اس سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے جس میں متحدہ عرب امارات اور خطے کے درمیان محفوظ نقل و حمل کا ایک راستہ شامل ہے جو تجارتی اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد کرے گا۔

اقتصادی طور پر سفر کے وقت، لاگت اور اسٹیشنوں کے درمیان فاصلے میں $3 بلین (11 بلین درہم) کی اندازاً بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حادثات کی کمی سے ہونے والی بچت میں $6 بلین (22 بلین درہم) اور وسیع تر معاشی فوائد مثلاً بہتر رسائی، زمین کا استعمال اور پیداواری صلاحیت میں 3۔6 بلین (23 بلین درہم) کی بچت ہوگی۔

مزید برآں ریل نیٹ ورک سے سڑک کی دیکھ بھال کے اخراجات میں $2.2 بلین (8 بلین درہم) کی بچت کی توقع ہے۔

پائیداری کا فروغ

ماحولیاتی نقطہ نظر سے یو اے ای ریلوے پروگرام ملک کے نیٹ زیرو 2050 کے ایجنڈے کے عزم سے مطابقت رکھتا ہے۔ ملک کا مقصد 2050 تک سڑک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سی او 2 کے اخراج کو سالانہ 21 فیصد تک کم کرنا ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اور یہ بات اتحاد ریل کے آغاز سے ہی اس کی اقدار کا مرکز رہی ہے۔

اس ریلوے پراجیکٹ کی تکمیل پر یہ منصوبے پورے متحدہ عرب امارات میں 1,200 کلومیٹر پر محیط ہو گا جو نو سرنگوں سے گزرتے ہوئے رویس، ابوظبی کے صنعتی شہر، خلیفہ پورٹ، دبئی صنعتی شہر، جبل علی پورٹ، الغیل ڈرائی پورٹ اور فجیرہ پورٹ میں چار بڑی بندرگاہوں اور سات لاجسٹک مراکز کا احاطہ کرے گا۔

اس کے پاس 38 مال بردار انجنوں کا بیڑا ہوگا جس سے سالانہ 60 ملین ٹن سے زیادہ مال کی نقل و حمل کا امکان ہے۔

جی سی سی ریل لنکس

اتحاد ریل کے متحدہ عرب امارات کی سرحدوں سے باہر ایک اہم ٹرانسپورٹ لنک فراہم کرنے کی بھی توقع ہے۔

ستمبر 2022 میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے عمان کے دورے کے موقع پر سلطنت کے قومی ڈویلپر اور ریلوے نیٹ ورکس کے آپریٹر اتحاد ریل اور عمان ریل نے عمان اور اتحاد ریل کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جو ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ یہ منصوبہ یکساں طور پر دونوں اداروں کی ملکیت ہے جس کا مقصد ایک ایسا ریلوے نیٹ ورک ڈیزائن، تعمیر اور آپریٹ کرنا ہے جو صحار پورٹ کو متحدہ عرب امارات کے قومی ریل نیٹ ورک سے ملا دے۔

اس معاہدے کے تحت دو جی سی سی ممالک کو 303 کلومیٹر طویل مسافر ریل لائن کے ذریعے منسلک کیا جائے گا جو ابوظہبی کو مسقط کے شمال میں صحار سے ملاتی ہے۔

نئے بنائے گئے ادارے میں ایک ریلوے نیٹ ورک کو ڈیزائن کرنے، ترقی دینے اور چلانے کے لیے $3 بلین کی مجموعی سرمایہ کاری شامل ہوگی جو صحار پورٹ کو متحدہ عرب امارات کے قومی ریل نیٹ ورک سے ملائے گا۔ بہت زیادہ متوقع ریلوے لائن بنیادی طور پر صحار کو ابوظہبی سے ملا دے گی۔

مسافر ٹرینیں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہوئے صحار سے ابوظہبی تک کے سفر کا وقت 100 منٹ اور صحار سے العین تک 47 منٹ تک کم کر دیں گی۔ مال بردار ٹرینیں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

 اتحاد ریل نے متحدہ عرب امارات کے عظیم قومی نیٹ ورک منصوبے کی نئی فضائی تصاویر جاری کی ہیں جن سے ملک کے مشرقی ساحل پر جاری کام میں لائن کی تیز رفتار پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔ (ٹوئٹر)
اتحاد ریل نے متحدہ عرب امارات کے عظیم قومی نیٹ ورک منصوبے کی نئی فضائی تصاویر جاری کی ہیں جن سے ملک کے مشرقی ساحل پر جاری کام میں لائن کی تیز رفتار پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔ (ٹوئٹر)

سیاسی اور معاشی اثرات

ایم ای ای ڈی (میڈ) میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مواد اور تحقیق کے سربراہ ایڈ جیمز نے العربیہ کو بتایا کہ عمان میں صحار اور متحدہ عرب امارات میں العین کے درمیان ریل لنک ممکنہ طور پر جی سی سی میں پہلی باہم منسلک لائن ہو گی۔

جیمز کے مطابق ایک باقاعدہ شکل اختیار کرنے سے کم از کم تین سے چار سال پہلے کنیکٹ 2022 منصوبہ دو جی سی سی ممالک کے درمیان ایک معاہدے سے پیدا ہوا جو سرحد پار نیٹ ورک تیار کرنے کے لیے کیا گیا۔

مارچ تک 3 بلین ڈالر کا یہ مشترکہ منصوبہ میگا انفراسٹرکچر پراجیکٹس میں مہارت رکھنے والی فرموں سے پری کوالیفیکیشن بولیوں کو مدعو کر رہا تھا۔ جیمز نے کہا کہ یہ لنک اور دیگر جو آئندہ سالوں میں بنیں گے، ان کے معاشی اور سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک مکمل طور پر ترقی یافتہ انٹر-جی سی سی ریل نیٹ ورک کا تعلق ہے تو جیمز نے کہا کہ اگر تمام متعلقہ حکام ابھی ملیں اور کارروائی کریں تو 2030 ایک ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے۔ دمشق، شام اور مدینہ کے درمیان سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں 1900 کے عشرے میں تعمیر کی گئی 1,320 کلومیٹر طویل حجاز ریلوے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ مشرق وسطیٰ کے لیے ضروری نہیں کہ نیا ہو۔"

 4 جنوری 2019 کی ایک تصویر میں سعودی عرب کے شمال مغربی قصبے العلا کے قریب عثمانی دور کے ریلوے کا حجاز ٹرین اسٹیشن دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)
4 جنوری 2019 کی ایک تصویر میں سعودی عرب کے شمال مغربی قصبے العلا کے قریب عثمانی دور کے ریلوے کا حجاز ٹرین اسٹیشن دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)

ممکنہ نیٹ ورک کے اقتصادی اثرات کو "سب سے بڑا" عنصر قرار دیتے ہوئے جیمز نے کہا کہ جی سی سی ریلوے بنیادی طور پر مختلف شہروں کے درمیان کارگو اور مال کی نقل و حمل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا۔ "معاشی طور پر ہمارے پاس مختلف بندرگاہوں کے استعمال کے فوائد ہیں - کم آلودگی، سڑکوں پر کم ٹریفک، نظریاتی طور پر کم لاگت اور مختلف ممالک کے درمیان کنٹینر ٹریفک اور مال بردار سامان کی فوری اور آسان سہولت۔"

جیمز نے مزید کہا کہ "اگر ٹرینوں میں تیز رفتار عنصر ہو تو یہ لوگوں کو شہروں اور ملکوں کے درمیان منتقل کر کے علاقائی ہوائی سفر پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔"

جیمز نے کہا۔ "اتحاد ریل کے پہلے مرحلے کو دیکھتے ہوئے جس میں سلفر کی نقل و حمل شامل ہے اور - دوسرے مرحلے میں - ایک مال بردار ریلوے "یہ سب مال کی نقل و حمل، اور لاریوں کو سڑک سے اتارنے اور اسے سستا اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ہے۔"
"اگر آپ جی سی سی ریلوے کو مال برداری کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو جب آپ کے پاس صحار کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ رابطہ موجود ہو گا تو یہ مال برداری کو صحار بندرگاہ پر اترنے کی اجازت دے گا اور پھر اسے متحدہ عرب امارات میں لے جایا جائے گا۔ اور یقیناً متحدہ عرب امارات سے صحار تک بھی ایسا ہی ہوگا۔"

"لیکن بحری راستوں اور شپنگ کارگو ٹرانزٹ پر بھی اس کے مضمرات ہیں کیونکہ نظریاتی طور پر مال بردار شپنگ کمپنیاں صحار میں اپنے کارگو کا کنٹرول سنبھال سکتی ہیں اور اسے ریلوے لنک کے ذریعے متحدہ عرب امارات لے جایا جا سکتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا۔ "اس راستے کا "نظریاتی طور پر مطلب یہ ہے کہ کچھ شپنگ کمپنیوں کو ایسا کرنے کے لیے جیبل علی بندرگاہ [دبئی میں] یا خلیفہ بندرگاہ [ابوظہبی میں] جانے کی ضرورت نہیں ہے۔"

جیمز نے کچھ فوائد بیان کیے مثلاً تیز تقسیم، کم لاگت، اور ایک دفعہ ریل نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لینے کے بعد جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں سے بچنے کا امکان۔ جیمز نے مزید کہا، "بندرگاہوں تک رسائی کے حوالے سے یہ مسئلہ ایک وجہ ہے… جی سی سی ریلوے نیٹ ورک کی ترقی میں ایک طویل تاخیر کیوں ہوتی رہی ہے۔ جی سی سی ریلوے کے منصوبے کم از کم ایک دہائی سے موجود ہیں۔"

2016 کی رپورٹوں کے مطابق مسقط-متحدہ عرب امارات ریل نیٹ ورک دوطرفہ طور پر اس وقت منسوخ کر دیا گیا تھا جب جی سی سی کے دیگر ممالک 2021 میں سعودی عرب میں العلا سربراہی اجلاس سے قبل اندرونی ریل کی ترقی سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئے تھے۔ جیمز نے کہا۔ "یہ کسی حد تک حساس مسئلہ ہے۔"

دیکھ بھال کے اخراجات کا اشتراک اور لوکوموٹیوز اور ٹریکس کے درمیان تکنیکی تغیرات جیسے آپریشنل مسائل پورے جی سی سی کے وسیع نیٹ ورک کی ترقی کو روک سکتے ہیں۔

محقق نے مزید کہا۔ "اب ہمیں عمل درآمد نظر آنے لگا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ عمان کا رابطہ اس کا پہلا واضح اشارہ ہے۔"

دیگر پراجیکٹس مثلاً بحرین سے سعودی عرب تک کاز وے، کویت کا سعودی عرب تک بھی ریل نیٹ ورک اور قطر کے 2025-2030 تک کے لیے متعدد طویل فاصلے کے ریلوے منصوبے بھی اپنی شکل واضح کر رہے ہیں۔

جیمز نے کہا۔ "اور یقیناً سعودی عرب کا کافی انتظار کردہ زمینی پل کا منصوبہ جو ریاض کے راستے جدہ سے دمام تک ہے، وہ کسی بھی علاقائی ریلوے نیٹ ورک کا بنیادی جزو ہو گا۔" سعودی مملکت کی تمام جی سی سی ممالک کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں جس سے یہ خلیجی ریل نیٹ ورک کا کلیدی عنصر بن جاتی ہے۔

تاہم اگر ایک تیز رفتار بین الاقوامی ریل نیٹ ورک کے لیے اقتصادی کیس بنانا ضروری ہے تو انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی طور پر آسان سفر میں مہارت حاصل کی جانی چاہیے۔

اتحاد ریل کے معاملے میں جیمز نے کہا کہ اسے بنیادی طور پر ایک مال بردار نیٹ ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا جس میں مسافر ریل کا عنصر "اس پر ٹیک کیا گیا تھا۔""معاشی کیس بنانا مشکل ہے کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آخر کتنے لوگ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس خطے میں جہاں لوگ کاروں سے منسلک ہیں، یہ ایک اور عنصر ہے جو آپ کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔"

جیمز نے مزید کہا۔ "چلیں ہم کہتے ہیں کہ عجمان، شارجہ، دبئی اور ابوظہبی کے درمیان ایک تیز رفتار ریلوے تھی؛ تو ایسے میں یہ نظریاتی طور پر مختلف شہروں کے درمیان لوگوں کی بہت تیز اور آسان نقل و حرکت کو ممکن بنائے گی جو ممکنہ طور پر ملک کے جغرافیائی-آبادیاتی سیاق و سباق کو بدل دے گی۔"

سیاسی نقطہ نظر سے جیمز نے کہا کہ کسٹم اور پاسپورٹ کنٹرول کے معاملے میں "بلاتعطل نظام میں ممالک کے درمیان سفر کرنے کی زیادہ صلاحیت والا تخلیقی راستہ تلاش کرنے کے لیے" ایک باہم منسلک ریل نیٹ ورک عمل انگیز ہو سکتا ہے۔

12 دسمبر 2019 کی اس تصویر میں حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین بحیرۂ احمر کے شہر جدہ کے ایئرپورٹ اسٹیشن پر موجود ہے جو سعودی عرب کے دو مسلم مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو ملانے والے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ (اے ایف پی)
12 دسمبر 2019 کی اس تصویر میں حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین بحیرۂ احمر کے شہر جدہ کے ایئرپورٹ اسٹیشن پر موجود ہے جو سعودی عرب کے دو مسلم مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو ملانے والے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ (اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا۔ "اگر آپ کے پاس ممالک کے درمیان ایک مسافر ریل نیٹ ورک ہے اور پاسپورٹ چیک کرنے میں چار گھنٹے لگتے ہیں تو یہ لوگوں کو ہمسایہ ممالک سے باہر لے جانے کی کوشش کے لحاظ سے قدرے خود کو شکست دینے والی بات ہوگی۔"

یورپی ریلوے جو "بلاتعطل سفر" کی علامت ہے اور یہ سفر اسے ایک "مضبوط اتحاد" بناتا ہے، کی مثالیں دیتے ہوئے جیمز نے کہا کہ جی سی سی ریل "زیادہ متحد جی سی سی کی طرف ایک قدم" ہوگی بالکل ان ممالک کی طرح جو سالم اور باہم مربوط بجلی کے گرڈ کے نظام سے منسلک ہیں۔

"ایک مزید مربوط ریلوے لنک کو دیکھنا بھی، یہ ایک سیاسی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جتنا کہ یہ ایک ظاہری تعمیری منصوبہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ عراق اور ترکی میں، یورپ میں، یہاں تک کہ اردن اور ممکنہ طور پر مصر وغیرہ میں جانے کے مواقع اور امکانات پیدا کرتا ہے۔"

بیرونی عوامل علاقائی ترقی میں تاخیر کی وجہ بنتے ہیں

جبکہ اتحاد ریل آگے بڑھ رہی ہے، متحدہ عرب امارات سے باہر بیرونی ماحولیاتی عوامل اور بنجر مشرق وسطیٰ میں تیز رفتار ریل نیٹ ورک کو برقرار رکھنے کی لاگت (جیسے معاملات) علاقائی نیٹ ورک پر پیشرفت کو روک رہے ہیں۔

ڈاکٹر حماد المجیبہ جو کہ ریلوے میں مہارت کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں انجینئر ہیں، نے العربیہ انگلش کو بتایا۔ "ان عوامل کے نتیجے میں یہاں چین اور جاپان کے مقابلے میں نسبتاً سست ترقی ہو رہی ہے جن کے پاس انتہائی تیز بلٹ ٹرینیں ہیں۔"

خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک پر محیط اور مشترکہ معیارات کے ساتھ تعاون پر مبنی مشترکہ ریل نیٹ ورک کی منظوری 2009 میں دی گئی تھی جس کی آخری تاریخ 2018 تھی۔ اس وقت سعودی عرب واحد ملک تھا جس کے پاس ریل نیٹ ورک تھا۔

المجیبہ جو سعودی عرب کی طائف یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی ہیں، نے کہا کہ مالی اور سیاسی عوامل کے علاوہ ماحولیاتی مسائل مثلاً ریت کے طوفان اور سال میں زیادہ تر گرم درجہ حرارت سے ٹیلوں کا بن جانا نسبتاً سست پیش رفت کا باعث بنتا تھا۔

المجیبہ نے کہا کہ ریت کے ٹیلوں کی منتقلی بہت سے واقعات میں مہلک ہو سکتی ہے اور مسلسل نگرانی اور انہیں ہٹانا مہنگا ہو سکتا ہے۔ جب ریت کے ٹیلے ٹرین کی پٹریوں پر چڑھ جاتے ہیں، تو اسے ہر روز یا کم از کم ہر دو دن بعد ہٹایا جانا چاہیے تاکہ ٹرین کو پٹڑی سے اترنے سے بچایا جا سکے۔

المجیبہ نے کہا کہ ایک ہی ٹریک پر چلنے والی ریت ہٹانے والی مشینیں نہ تو پائیدار حل ہیں اور نہ ہی مواصلاتی خرابیوں کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں شمال-جنوبی ریل لائن جو کہ منصوبہ بند 2,750 کلومیٹر کے ٹریک پر دنیا کی طویل ترین لائن ہے، یہ ریت ہٹانے والی مشینیں استعمال کرنے والے بہت سے علاقائی نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔

12 نومبر 2018 کی ایک تصویر میں عراق کے مغربی صحرائی صوبے الانبار میں پٹری سے اتری ہوئی ٹرین نظر آ رہی ہے جو جنگ زدہ ہمسایہ شام کی غیر محفوظ سرحد کے ساتھ ریل کی پٹری کے کنارے پڑی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
12 نومبر 2018 کی ایک تصویر میں عراق کے مغربی صحرائی صوبے الانبار میں پٹری سے اتری ہوئی ٹرین نظر آ رہی ہے جو جنگ زدہ ہمسایہ شام کی غیر محفوظ سرحد کے ساتھ ریل کی پٹری کے کنارے پڑی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مشینوں اور ٹرینوں کے درمیان حادثات کے خطرے کے علاوہ ان مشینوں کو چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی لاگت کا عنصر بھی ہے۔ مزید برآں تیز رفتار ٹرین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے اونٹ بھی ایک خطرہ ہیں جو کہ صحرا میں پٹری بچھانے میں حائل ہے۔

متحدہ عرب امارات نے جنگلی حیات کے لیے کراسنگ ڈیزائن کیے ہیں اور ماحولیاتی ماہرین اور ماہرینِ خصوصی کے ہمراہ روٹ کا سروے کرنے کے بعد جانوروں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا ہے۔ پچھلی رپورٹس کے مطابق تعمیر سے پہلے نقل و حرکت کے نمونوں کی نگرانی کی گئی اور کام میں مداخلت کو کم کیا گیا۔

المجیبہ جنہوں نے سول انجینئرنگ اور ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ کے پس منظر کے ساتھ انجینئرنگ اور ماحولیات میں پی ایچ ڈی بھی کی ہے، نے مشرق وسطیٰ کے ریل نیٹ ورکس کے لیے سماجی لاگت، عملداری اور تخفیف کے طریقوں پر متعدد مقالے مشترکہ طور پر تحریر کیے ہیں۔

تخفیف کے دو طریقے جو وہ تجویز کرتے ہیں ان میں قلیل مدتی تخفیف کے لیے کنکریٹ کی رکاوٹیں، گڑھے اور ڈائیکس بنانا اور طویل مدتی میں درختوں کو مرکب میں شامل کرنا ہیں۔ المجیبہ نے اپنے 2022 کے مقالے میں ان طریقوں کو تفصیل سے دریافت کیا۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: 'سعودی عرب میں ریلوے نیٹ ورک پر ریت کے طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرنا'۔

انجینئر نے کہا کہ انہوں نے ریلوے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے شعبے میں مہارت حاصل کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ایم ای این اے (مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی افریقہ) کے علاقے میں، بالخصوص سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر توسیع کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہمسایہ ملک عمان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنے اندرونی نیٹ ورکس پر مکمل طور پر آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں نے 2022 میں صحار اور ابوظہبی کے درمیان 303 کلومیٹر طویل روٹ کی تعمیر کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات کا اتحاد ریل نیٹ ورک سعودی عرب سے منسلک ملک کی سرحد کے دوسرے سرے تک بھی جاتا ہے۔

فی الحال مملکت مسافروں کے تین نیٹ ورک چلاتی ہے - ریاض تا دمام 1981 میں بنایا گیا تھا۔ ریاض سے قصیم، حائل، اور جوف تک؛ اور مکہ، مدینہ اور جدہ کو ملانے والی حرمین ہائی سپیڈ ریلوے۔

12 دسمبر 2019 کی اس تصویر میں بحیرۂ احمر کے شہر جدہ کے ہوائی اڈے کے اسٹیشن پر موجود حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین کا ایک منظر دکھایا گیا ہے جو سعودی عرب کے دو مسلم مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو ملانے والے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ (اے ایف پی)
12 دسمبر 2019 کی اس تصویر میں بحیرۂ احمر کے شہر جدہ کے ہوائی اڈے کے اسٹیشن پر موجود حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین کا ایک منظر دکھایا گیا ہے جو سعودی عرب کے دو مسلم مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو ملانے والے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ (اے ایف پی)

اگرچہ یہ مسافر ٹرینیں جدید ہیں اور حرمین لائن کے پاس جاپان کی طرز کی تیز رفتار بلٹ ٹرینیں ہیں لیکن دوسری ٹرینیں جو زیادہ تر مال بردار ہوتی ہیں، ان میں ایسے انجن ہوتے ہیں جو پٹریوں سے ریت کو ہٹا سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اتحاد ریل مال بردار انجنوں میں ریت کا فلٹریشن سسٹم موجود ہے۔

چیلنجوں کے باوجود المجیبہ عوامی نقل و حمل کے نیٹ ورک کے لیے پرامید ہیں جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ آئندہ سالوں میں صرف بڑھے گا ہی اور ایک سرحد پار بین المشرقِ وسطیٰ لائن تشکیل دے گا جس کی تکمیل کے بعد یہ موجودہ یورپی نیٹ ورک سے بڑا ہو جائے گا۔

طویل انتظار والے ریاض میٹرو پراجیکٹ کے مشیر کے طور پر المجیبہ نے کہا کہ 84 سٹیشنوں کے ساتھ دارالحکومت کے بیشتر حصوں کو ملانے والے اس منصوبے کے 2023 کے اختتام سے پہلے کھل جانے کا امکان ہے۔

میٹرو سسٹم کو مسلسل بڑھتی ہوئی بس لائنوں کے علاوہ ایئر پورٹ کے مرکز اور ترقی پذیر ریل نیٹ ورک سے مربوط کرتے ہوئے ٹرانسپورٹیشن ماہر سعودی عرب کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا کامیاب انضمام اور رابطہ دیکھتے ہیں؛ ایک ایسا اقدام جسے متحدہ عرب امارات میں نقل کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں