امریکہ کی فلسطین میں آباد کاروں کی دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو مغربی کنارے میں آباد کاروں کے ہاتھوں ایک فلسطینی کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس واقعے کو دو ٹوک زبان الفاظ میں دہشت گردی قرار دیا۔
یہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کے تحت مغربی کنارے میں تشدد میں اضافے سے واشنگٹن کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے دو آباد کاروں کو جمعہ کے روز رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں رقہ کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ دونوں ایک گروپ کا حصہ تھے جس نے پتھر پھینکے ، کاروں کو آگ لگائی اور فائرنگ کی، جس سے ایک 19 سالہ نوجوان ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز دیر گئے ایک بیان میں "مکمل احتساب اور انصاف" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کل انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں ایک 19 سالہ فلسطینی ہلاک ہو گیا تھا۔"

آباد کاروں نے مغربی کنارے کے دیہاتوں پر بار بار حملے کیے جس سے املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے متاثرین میں دوہری امریکی اور فلسطینی شہریت رکھنے والے فلسطینی بھی تھے۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں یا ان کے حامیوں کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال دگنی ہو گئی ہے۔

"ہمیں خطرناک یہودی قومی دہشت گردی کے عروج کا سامنا ہے،" اپوزیشن کے قانون ساز بینی گینٹز، جو پہلے وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے، نے ایک ٹویٹ میں کہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں