ایرانی جیل میں کرد خاتون نے بطور احتجاج اپنے ہونٹ سی لئے، بھوک ہڑتال شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی جیل میں ایک کرد خاتون نے بطور احتجاج ہونٹ سلا لئے۔ حقوق انسانی کے ایک گروپ نے اتوار کو بتایا کہ ایران میں جیل میں بند ایک کرد خاتون نے جیل سے چھٹی نہ ملنے کے خلاف بھوک ہڑتال کے آغاز پر اپنے ہونٹوں کو جوڑ لیا ہے۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ہینگاو نے ایک بیان میں کہا کہ سہیلہ محمدی نے پانچ سال کی مدت کے تین سال گزار لیے ہیں۔ سہیلہ نے یہ کارروائی شمال مغربی ایران کے شہر ارمیا میں واقع جیل میں کی۔

خاتون کو 2020 کے موسم خزاں میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے مسلح گروپ کردستان فری لائف پارٹی کی رکنیت پر سزا سنائی گئی۔ یہ گروپ ایران کی کرد اقلیت کے لیے خود ارادیت کے حق پر زور دیتا ہے۔ گروپ پڑوسی ملک ترکیہ میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ہے۔

ہینگاو جو ایران میں کرد مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے نے کہا کہ سہیلہ محمدی کو ریجنل پراسیکیوٹر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ وہ ان سے عارضی چھٹی کا مطالبہ کر سکیں۔

سہیلہ محمدی ایک بچے کی ماں ہیں۔ انہوں نے اس سال کے شروع میں اپنے سینے میں چھرا گھونپ کر خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔ اس وقت ان کے ساتھی قیدیوں کی مداخلت کے باعث ان کی جان بچ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں