فلسطینی کو قتل کرنے والا ملزم تمغے کا مستحق ہے: اسرائیلی وزیر بن گویر

آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کے انتباہات کے بعد حکومتی رہنماؤں کی شاباک کے سربراہ پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت میں قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے آپریشن سائرینیکا کی تعریف کی جس کے مجرموں میں سے ایک الیشا یارڈ کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ’’ عظمہ یہودیہ‘‘ نامی پارٹی کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ بن گویر نے کہا کہ یارڈ اپنے دفاع میں آپریشن کیا اور اس پر وہ تمغے کا مستحق ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب " فلسطینیوں پر یہودی دہشت گردانہ حملوں" کے انتباہات کی وجہ سے انٹیلی جنس سروس شاباک کے سربراہ رونن بار پر حکومتی اتحاد کے متعدد ارکان تنقید کر رہے ہیں۔

اگرچہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یارڈ اور مسلح آباد کاروں کے ایک گروپ نے برقہ گاؤں پر حملہ کر کے فلسطینی نوجوان قصی المعطان کو شہید کر دیا اور دیگر شہریوں کو زخمی کر دیا تاہم بن گویر نے اسے اپنا دفاع قرار دے دیا ہے۔

بن گویر نے کہا کہ وزارت میں میری پالیسی واضح ہے۔ جو بھی پتھراؤ کے سامنے اپنا دفاع کرتا ہے وہ تعریفی تمغے کا مستحق ہے۔ میں مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کے سربراہ سے توقع کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف یہودی مشتبہ افراد بلکہ ان عرب فسادیوں کی بھی تحقیقات کریں گے جنہوں نے پتھر پھینکے اور یہودی آباد کاروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

سیاسی ذرائع نے میڈیا کو یہ اطلاع دی تھی کہ شاباک کے سربراہ اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم نیتن یاہو کے پاس گئے تھے اور انہیں یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف کی جانے والی سرگرمیوں کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔

معلوم ہوا کہ اتوار کو اسرائیلی فوج کی کمان نے بھی ایسی ہی وارننگ جاری کی اور کہا یہودی آباد کاروں کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال کے پہلے چھ ماہ میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے خلاف 591 کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں میں فلسطینیوں پر تشدد کیا گیا یا ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں