اسرائیل اگلے ماہ امریکا ویزا استثنا پائلٹ پروگرام میں غزہ کے امریکیوں کو شامل کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اگلے ماہ ناکا بندی کا شکار غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی امریکیوں کے سفر کو آسان بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ اسرائیلی ویزے کے بغیر امریکا میں داخل ہوسکیں۔

یہ بات ایک اسرائیلی عہدہ دار نے پیر کے روز بتائی ہے۔امریکی ویزا استثنا پروگرام (وی ڈبلیو پی) میں شمولیت کی شرط کے طور پر اسرائیل نے 20 جولائی سے فلسطینی امریکیوں کے لیے اپنی سرحدوں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر اور باہر رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔

لیکن غزہ کے مکینوں کو اب تک اس پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔اس پر فلسطینی امریکیوں نے احتجاج کیا اور امریکا نے اسرائیل سے اس عمل میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کے وی ڈبلیو پی پروجیکٹ منیجر گل برنگر نے غزہ میں مقیم فلسطینی امریکیوں کی تعداد 100 سے 130 کے درمیان بتائی ہے اور کہا کہ پائلٹ کے طور پر وہ خصوصی شٹل بس کے ذریعے مغربی کنارے کا سفر کرسکتے ہیں، اردن میں داخل ہوسکتے ہیں اور وہاں سے خاندانی اسفار پر دیگر غیر ملکی مقامات پر جا سکتے ہیں۔

برنگر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ 15 ستمبر تک اسرائیل کے سکیورٹی معیار پر پورا اترنے والے افراد 'بی ٹو' سیاحتی ویزے پر اسرائیل میں داخل ہو سکیں گے اور اس کے مرکزی بن گورین ہوائی اڈے سے پرواز کر سکیں گے۔

انھوں نے ایک فون انٹرویو میں کہا کہ’’اس کا بنیادی طور پر مطلب یہ ہوگا کہ وہ پائلٹ میں شامل ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام پر عمل درآمد کی تاریخ اصل میں 22 ستمبر تھی اوراگر ہم اسے مزید آگے لے جا سکتے ہیں تو ہم ایسا کریں گے۔

امریکی سفارت خانے نے پیر کے روز جاری کردہ ایک ایڈوائزری میں اشارہ دیا ہے کہ اسے ابھی تک اسرائیلی فیصلے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس سے قبل تفصیل فراہم کیے بغیر کہا تھا کہ غزہ سے متعلق پالیسی کا 15 ستمبر تک جائزہ لیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی نئے طریق کار کا اعلان کیا جائے گا، ہم امریکی شہری برادری کو ایک اور پیغام دیں گے۔

برینگر نے کہا کہ پائلٹ کے پہلے دو ہفتوں میں قریباً 2500 فلسطینی امریکیوں نے اسرائیل کی سرحدوں سے سفر کیا اور اتنی ہی تعداد مغربی کنارے میں داخل ہوئی یا باہر گئی۔

انھوں نے کہا کہ پائلٹ کے تحت اسرائیل بیرون ملک سے آنے والے فلسطینی امریکیوں کو بھی اجازت دے رہا ہے جن کے غزہ میں فرسٹ ڈگری کے رشتہ دار ہیں اور وہ سال میں ایک بار 90 دن تک سفر کر سکتے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں امریکی سفارت خانہ نے اسرائیلی حکام سے پوچھے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے پائلٹ کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایک علاحدہ بیان میں برنگر نے پیشین گوئی کی کہ اسرائیل 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن تک وی ڈبلیو پی کے معیار پر پورا اترے گا، جس سے اس کے شہری نومبر تک بغیر ویزے کے امریکا میں داخل ہو سکیں گے۔ برینگر نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ ’’یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ سات ہفتوں میں مکمل ہوجائے گا‘‘۔

فلسطینی اور امریکی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ غزہ میں دُہری شہریت کے حامل امریکیوں کی تعداد کئی سو ہوسکتی ہے۔ اعداد و شمار میں واضح تضاد کے بارے میں پوچھے جانے پر برنگر نے کہا کہ ان میں سے زیادہ ترافراد غزہ کے کل وقتی مکین نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں