حوثی نوجوان نے سکول میں گھس کر بچے کو ذبح کر ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے جنوب مغرب میں واقع تعز گورنری کے ضلع شرعب میں ایک حوثی بندوق بردار نے ایک بارہ سالہ بچے کو ایک اسکول میں طلبہ کے سامنے گھناؤنے اور ہولناک طریقے سے ذبح کر ڈالا۔

مقامی اور میڈیا ذرائع نے بتایا کہ ایک حوثی نوجوان نے ضلع شراب الرونہ کے علاقے "الرعینہ" میں واقع "وادی الحید" سکول پر دھاوا بول دیا اور سکول کے کیمپس کے اندر بچے ارسلان محمد عبدہ سعید کو اس کے ہم جماعتوں کے سامنے ذبح کردیا۔ ذرائع کے بہ قول اس نے پہلے بھی ذبح کا جرم کیا ہے۔ مجرم کی طرف سے بچے پر جسمانی حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مجرم نے بچوں کے ایک گروپ کا پیچھا کیا۔ انہیں علاقے کے سکول کے ایک کلاس روم میں داخل کیا۔ اور بچے کو اس کے دوستوں کے سامنے ذبح کر دیا۔

ذرائع نے کہا کہ قاتل کا تعلق اسی علاقے سے ہےاور اس کا نام جمال حاتم ہے۔ قاتل اور مقتول کے خاندانوں کے درمیان کوئی مسئلہ یا دشمنی نہیں ہے۔ بچے کو بچانے کی کوشش کے لیے اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔

اس وحشیانہ واقعے نے طالب علم بچوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کا ایک نمونہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں