عراق میں سوتیلی ماں کے ہاتھوں ایک اور معصوم بچے پرتشدد کا لرزہ خیز واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں ایک تازہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں حسینیہ کے علاقے میں ایک خاتون نے اپنے سوتیلی بیٹے حیدر زید عمار کو اس کی سوتیلی ماں نے تشدد کرکے اس کی ہڈیاں توڑ دیں اور اسے شدید زخمی کردیا۔

اس افسوسناک واقعے نے حال ہی میں پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے کی یاد تازہ کردی ہے جس میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کے سات سالہ سابقہ بچے موسیٰ ولاء کو تشدد کرکے جان سےمار دیا تھا۔

دونوں واقعات پر سوشل میڈیا پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوتیلی ماں نے بچے کی ہڈیاں توڑ دیں

حسینیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نے سوتیلے بچے پر تشدد کرکے اس کی ہڈیاں توڑ دیں جس کے بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔

نئی بیوی اپنے شوہر کے بچوں کی پرورش کا خیال برداشت نہ کر سکی تو اس نے ان پر تشدد کرنے کا سہارا لیا۔

تفصیل کے مطابق تشدد کا شکار ہونے والے بچے کے والد اور ماں کے درمیان ناراضگی کے بعد علاحدگی ہوچکی تھی اور اس شخص نے دوسری شادی کرلی۔ کچھ عرصہ تک حیدر کا والد اس کی ماں کو بچہ کا نان نفقہ دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے اس کو نان نفقہ دینا چھوڑ دیا اور بچے بھی اس سے لے لیے۔

بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ بچے کو اس کا دادا ایک دن شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے کرآیا جہاں مجھے بھی بلایا گیا۔ بچے کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔

ان کے پہنچنے کے بعد، افسر نے بچے کے والدین سے پوچھ گچھ کی کہ آیا حیدر کو ایلوپیشیا، وٹیلگو یا الرجی ہے، جس کا بچہ کبھی شکار نہیں ہوا۔

ماں کے آنے پر وہ تشدد کے ان نشانات سے چونک گئی جو اس کے چھوٹے سے جسم، اس کے کان اور جسم کے دوسرے حصوں پر موجود تھے۔

دادا نے مزید کہا کہ "ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے والد اور اس کی بیوی چار ماہ سے اس کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔اسے "کٹر" اور دوسرے تیز دھار آلات سے مارا گیا۔ "بچے کو فنگس کا سامنا ہے۔ کھوپڑی اور سر میں خون بہہ رہا ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ عراق میں گذشتہ ماہ ایک ہولناک جرم نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس کے نتیجے میں موسی ولاء نامی 7 سالہ بچے کی موت واقع ہوئی تھی جب کہ اسے اس کے والد کی بیوی نے بھی افسوسناک انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں