فلسطینی کے قاتل یہودی آبادکاروں کو دہشت گرد قراردینے کا امریکی لیبل مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے ایک عہدہ دار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی نوجوان کے قتل کی مذمت میں امریکا کی جانب سے ’دہشت گردانہ حملے‘کی اصطلاح کے استعمال کومسترد کردیا ہے جبکہ ایک اسرائیلی عدالت نے دو مشتبہ یہودی آباد کاروں میں سے ایک کو پولیس کی حراست سے رہا کرکے گھر میں نظربند کرنے کاحکم دیا ہے۔

واشنگٹن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد پرتشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر انتقامی حملے اور فسادات بھی شامل ہیں۔ان یہودی آبادکاروں نے بہت سے فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔ان حملوں کی زد میں آنے والوں میں امریکا کی دُہری شہریت کے حامل فلسطینی بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے جمعہ کے روزمقبوضہ کنارے میں واقع گاؤں برقع کے قریب ایک 19 سالہ فلسطینی نوجوان کے قتل کے الزام میں دوآباد کاروں کو گرفتار کیا تھا، ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک نے پتھراؤ کرنے والوں کے ایک بڑے گروپ پراپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مشرق قریب کے بیورو نے آباد کاروں کے تشدد کے تناظر میں ان پر دہشت گردی کی اصطلاح کا پہلی مرتبہ اطلاق کیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز کہا:’’ہم اسرائیلی انتہاپسند آباد کاروں کی جانب سے کل (جمعہ) کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘‘۔

پولیس نے ابتدائی طور پر آبادکاروں پر نسل پرستانہ محرکات کے ساتھ "جان بوجھ کر یا بے حسی سے قتل" کا الزام عاید کیا تھا ، لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے ایک رکن نے دلیل دی کہ برقعہ گاؤں میں نوجوان کی موت کا جرم واضح نہیں ہے۔

اسرائیل کی شین بیت سکیورٹی سروس کے انسداد دہشت گردی کے سابق سربراہ اور وزیر زراعت اوی دیخترنے کہا کہ ’’میں امریکی تعریف کو ایک درست پیشہ ورانہ تعریف کے طور پر لینے کا مشورہ نہیں دوں گا۔آخرکار وہ انٹیلی جنس معلومات پر نہیں بلکہ میڈیا رپورٹس پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہرچیز میڈیا رپورٹس پر ڈال دی جاتی ہے، جو چیزیں درست ہیں، جو غلط ہیں، اور دیگر چیزیں‘‘۔انھوں نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو اہم بات یہ ہے کہ وہاں کیا ہوا۔

پولیس گارڈ کی معیّت

مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کی ضلعی عدالت میں یہ دلیل پیش کی گئی ہے مشتبہ افراد کو ممکنہ قانونی چارہ جوئی تک رہا کیا جانا چاہیے۔ان میں سے ایک کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور اس کے سر پر چوٹ لگی تھی۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ان میں ایک ملزم کو گھر میں نظربند کیا جائے جبکہ دوسرے کو اسپتال میں ریمانڈ پر رکھا جائے۔وکیل صفائی ناٹی روم نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کا کام اپنی اور دوسروں کی زندگیاں بچانا تھا۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مزید تشدد کی حوصلہ افزائی ہوگی جبکہ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فورسز نے تحقیقات کو وسعت دینے کی کوشش میں برقع سے پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کیا۔انھیں مغربی کنارے کی ایک فوجی عدالت میں پیش کیا جاناتھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کے روز برقع میں قتل کے واقعے پر اپنی شدید مذمت کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔ترجمان میتھیو ملر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’سوچ یہ ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا، اور ہمیں اس پر تشویش ہے، اور اسی وجہ سے ہم نے اسے ایسا کہا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے خدشات کو بالکل واضح کردیا ہے، لیکن میں نوٹ کروں گا کہ اسرائیلی حکومت نے اس معاملے میں ایک گرفتاری کی ہے اور وہ مجرم کو جواب دہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اور یہ ایک مناسب کارروائی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں