لبنان میں معاشی بحران کی بنا پر سکول کے طلباء اور اساتذہ کی تعلیم سے محرومی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

چونکہ لبنان ایک بے ہنگم سیاسی تعطل اور ایک سنگین معاشی بحران دونوں کی زد میں ہے تو فکرمند والدین ایک بار پھر اپنے ملک کے تعلیمی شعبے کی افسوسناک حالت پر پریشان ہیں۔ جون میں اس سال کے بریویٹ امتحانات کی اچانک اور غیر متوقع منسوخی کے بعد کئی لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ اگلے ماہ نیا تعلیمی سال شروع ہونے پر اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیج سکیں گے۔

آئندہ تعلیمی سال کے لیے لبنان میں تعلیم کی لاگت فی بچہ اوسطاً $550 تک بڑھنے کا امکان ہے جو اسکول کی فیسوں میں ایڈجسٹمنٹ، ٹیوشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور 'ڈالرائزیشن' کی طرف مجموعی پیش رفت کے باعث ہے کیونکہ ملک انتہائی عدم استحکام کی بنا پر اپنی کرنسی لبنانی پاؤنڈ کو ترک کر رہا ہے۔ تاہم لبنان میں اوسط ماہانہ تنخواہ $200 ڈالر سے کم ہو گئی ہے۔

لبنان کا تعلیمی معیار

دریں اثناء تعلیمی شعبے کے اندر شدید خسارے لبنان کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے ایک زمانے میں منائے جانے والے اعلیٰ معیارات کو برسوں سے ختم کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کووڈ-19 کی وبا اور کچل دینے والے مالیاتی بحران کے آغاز نے پہلے سے ہی بیمار نظام کی کمر توڑ دی تھی۔

یونیسیف کے نائب نمائندہ ایٹی ہیگنز نے العربیہ انگلش کو بتایا، "لبنانی طلبا دراصل [ایک عشرہ پہلے کی نسبت] کم نمبر لے رہے ہیں جو تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی یعنی آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کی اوسط سے نیچے ہے۔ یہ تعلیم کے شعبے کے پہلے سے موجود مسائل ہیں جو جاری معاشی بحران کے باعث مزید بگڑ گئے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "تعلیم میں نجی شعبے کی موجودگی بہت مضبوط ہے لیکن سرکاری تعلیم خاص طور پر پرائمری تعلیم میں سرمایہ کاری کی مسلسل کمی ہے۔ حکومت کی طرف سے ملنے والے وسائل ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔"

چوں کو لبنان میں اپنی تعلیم کے لیے ایک مشکل جنگ درپیش ہے جس میں مستقبل کے لیے بہت کم امکانات ہیں۔
چوں کو لبنان میں اپنی تعلیم کے لیے ایک مشکل جنگ درپیش ہے جس میں مستقبل کے لیے بہت کم امکانات ہیں۔

سابق طلباء اور فنڈ جمع کرنے پر انحصار

اقتصادی بحران کے آغاز کے بعد سے لبنان کے بہت سے اسکولوں نے - ضرورت کی بنا پر - فنڈ جمع کرنے کی مہمات شروع کی ہوئی ہیں۔ وہ اپنے سابق طلباء یا لبنانی تارکین وطن پر انحصار کر رہے ہیں کہ وہ انہیں کام جاری رکھنے کے لیے مالی معاونت فراہم کریں۔ طلباء کے والدین سے بھی اکثر ان کے وارڈز کے لیے معمول کی فیسوں کے علاوہ اضافی رقم طلب کی جاتی ہے۔

یہ صورتحال سرمائے کے سخت کنٹرول کی وجہ سے مزید خراب ہو گئی ہے جو بحران سے پہلے کے امریکی ڈالر والے بینک اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کو اب لبنانی پاؤنڈز میں ناموافق شرحِ مبادلہ پر رقم نکالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ بلیک مارکیٹ میں دستیاب شرح سے بہت کم ہے۔

بیروت میں قائم 123 آٹزم سکولوں کی بانی اور جنرل منیجر سریتا ٹریڈ نے آٹزم سے متعلق سیکھنے کی مشکلات کا شکار بچوں کے لیے خصوصی تعلیم و تربیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا۔ "ہمارا نیو انگلینڈ سنٹر فار چلڈرن کے ساتھ معاہدہ ختم ہو گیا کیونکہ بینک نے ہماری ساری رقم لے لی اور ہمیں فنڈز منتقل نہ کرنے دیئے - اور پھر بچے ہمیں چھوڑنے لگے۔" انہوں نے مزید کہا۔ "کم تنخواہوں کی وجہ سے ہمیں اساتذہ بھی چھوڑ رہے تھے۔"

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ "کئی لبنانی مالی مسائل کی بنا پر اپنے بچوں کی سکول فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک آدمی جو ماہانہ 40 ڈالر کماتا ہے، وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے سکول کی فیس کیسے ادا کر سکتا ہے؟"

جو اسکول اپنی فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں، وہ بند ہونے سے بچنے کے لیے اخراجات میں زبردست کٹوتیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ غیر نصابی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ طلباء کے ناشتے اور مشروبات کو کلاس رومز سے ختم کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش اور ایندھن کی بلند قیمتوں کی وجہ سے بجلی اور ہیٹنگ جیسی ضروریات بھی خطرے میں ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے اساتذہ نے ہڑتالیں کیں اور یہ مارچ کے وسط تک جاری رہیں جن کی وجہ سے اس سال کے شروع میں کئی مہینوں کے لیے لبنان بھر میں سینکڑوں اسکول بند کر دیئے گئے۔ اساتذہ کی انجمن اور وزارت تعلیم کے درمیان کام کے حالات اور تنخواہوں پر مذاکرات جاری ہیں جس سے یہ خدشہ ہے کہ آیا کچھ اسکول کسی واضح اور پائیدار حل کے بغیر اگلی مدت میں دوبارہ کھلیں گے۔

بچوں کو لبنان میں اپنی تعلیم کے لیے ایک مشکل جنگ درپیش ہے جس میں مستقبل کے لیے بہت کم امکانات ہیں۔
بچوں کو لبنان میں اپنی تعلیم کے لیے ایک مشکل جنگ درپیش ہے جس میں مستقبل کے لیے بہت کم امکانات ہیں۔

بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز کی امداد

بین الاقوامی ایجنسیاں اور این جی اوز اس وقت لبنان کے متحارب معلمین کو ایک اہم امداد فراہم کر رہی ہیں۔ صرف یونیسیف نے 1,000 سے زیادہ سرکاری اسکولوں میں تقریباً 14 ملین ڈالر تقسیم کیے ہیں۔ ساتھ ہی کتابیں اور اسٹیشنری جیسے عطیات فراہم کیے ہیں اور تقریباً 100,000 بچوں کے خاندانوں کو سفری اخراجات ادا کرنے کے لیے نقد امداد فراہم کی ہے۔

انہوں نے 13,000 سے زیادہ خصوصی کنٹریکٹ اساتذہ اور انتظامی عملے کی تنخواہ کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی پیداواری الاؤنس اسکیم بھی شروع کی ہے – جسے ڈونرز، یونیسیف اور عالمی بینک نے مشترکہ طور پر فنڈ کیا ہے۔ یہ اقدام موسم گرما میں اسکول کی خدمات میں توسیع کی بھی حمایت کرتا ہے جس سے حالیہ برسوں میں بچوں کی تعلیم میں شدید رکاوٹ کے ازالے کی امید ہے۔

ہیگنز نے وضاحت کی۔ "ہم سمر اسکول چلانے کے لیے اسکولوں کو کم از کم چھ ہفتوں کے لیے کھول رہے ہیں۔ یہ بالکل ضروری ہے کہ طلباء اپنے کچھ نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔"

انہوں نے مزید کہا: "بہت سے بچے [جن کو] کووڈ کے سالوں کے دوران اسکول کے لئے تیار ہونا اور پری اسکول جانا تھا، اپنی نشوونما کے اہم سالوں سے محروم رہے ہیں۔ [یہ بچے] حروف کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ وہ مناسب طریقے سے بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہیں [اور] دوسرے بچوں کے گروپوں میں بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔ وہ یقیناً تعلیم تک مستقل رسائی کی کمی کا شکار ہیں۔"

لبنانی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ اسکولوں کو کھلا رکھنے اور آئندہ تعلیمی سال کے لیے وسائل تلاش کرنے کے لیے اپنے اختیارات میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ تاہم یونیسیف کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ لبنان کا تعلیمی نظام دوبارہ تعلیمی مقصد کے لیے صحیح معنوں میں فٹ ہو، اسے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ہیگنز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم ان اقدامات میں مدد کے لیے کام کر رہے ہیں مثلاً اُن علاقوں میں اساتذہ کی تعداد کو کم کرنا جہاں زیادہ ہے، جہاں ضرورت ہے وہاں نئے کلاس رومز کھولنا، اور جہاں ضرورت نہیں وہاں کلاس رومز کو بند کردینا۔ ہم ضروری پالیسی کے کام کے لیے [بھی] مالی اعانت فراہم کر رہے ہیں مثلاً ایک جامع تعلیمی حکمت عملی شروع کرنے اور وزارت کو عالمی معیار کی تکنیکی مدد اور معاونت فراہم کرنا۔"

اس بحران نے لبنان بھر میں - بشمول تعلیم - بہت سے اقتصادی شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے جس سے 'برین ڈرین' کی سطح خطرناک حد تک جا پہنچی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں گریجویٹس اور ہنر مند پیشہ ور افراد بہتر امکانات اور ملازمت کے تحفظ کی تلاش میں مقامی روزگار چھوڑ کر باہر نکل جاتے ہیں۔

لبنانی اسکول کے بچے اپنی پڑھائی میں اکثر اوقات خلل برداشت کرنے پر مجبور ہیں
لبنانی اسکول کے بچے اپنی پڑھائی میں اکثر اوقات خلل برداشت کرنے پر مجبور ہیں

اسی طرح کے حالات میں دیگر ممالک نے تاریخی طور پر نوجوان اور قابل تارکین وطن کو واپس اپنے وطن راغب کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے لیکن ان کے بغیر لبنان کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

ٹریڈ نے کہا۔ "اچھے اساتذہ ہمیں چھوڑ رہے ہیں [کیونکہ] وہ بیرون ملک جا رہے ہیں۔ بہت سے اساتذہ نے اپنی ملازمتیں حتی کہ اپنا کیریئر تبدیل کر لیا ہے۔ انہوں نے ویٹرز کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور یہ مستقبل کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو گا۔"

ہیگنز نے خبردار کیا، "حتیٰ کہ جب اسکول اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہو جائیں تو بھی گریجویٹ، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کو تلاش کرنا مشکل ہو گا جن کے پاس اسکولوں کو دوبارہ چلانے اور اس میں مدد کرنے کا تجربہ ہو۔"

العربیہ نے لبنان کی وزارتِ تعلیم سے رابطہ کیا لیکن اس نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں