زیر حراست صحافیوں کی حمایت کرنے پر برطانوی سفیر سے ایران ناراض

سائمن شیرکلف اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے: ایرانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج بدھ کو ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں برطانوی سفیر سائمن شیرکلف کو ایران میں صحافیوں کے دن کے موقع پر کئے گئے ایک مطالبہ پر طلب کرکے برہمی کا اظہار کردیا۔ برطانوی سفیر نے زیر حراست صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران میں کرد نژااد خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں پراسرار موت کے بعد ایران میں تاریخ کے بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران حکام نے متعدد صحافیوں کو حراست میں لیا تھا۔

شیرکلف نے ایپ "X" (سابق ٹویٹر) کے اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ میں تمام زیر حراست صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا ہم ان تمام صحافیوں کے لیے اپنی تعریف کا اظہار کرتے ہیں جنہیں کام کرنے سے روکا جاتا ہے اور جنہیں اپنی حفاظت کے لیے خطرات کا سامنا ہے۔ ہم ایران سے اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ تمام صحافیوں سمیت من مانے طریقے سے گرفتار کئے گئے تمام افراد کو رہا کردے۔ ایران میں ہر سال آٹھ اگست کو "جرنلسٹ ڈے" منایا جاتا ہے۔

برطانوی سفیر کے بلاگ پر ایرانیوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایرانی صحافیوں کی اکثریت نے ان کے موقف کا خیر مقدم کیا وہیں ان کارکنوں اور صحافیوں کی طرف سے تنقید کی گئی جو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے حامی ہیں۔

"اسلامی پروپیگنڈہ" کے دفتر سے وابستہ ایجنسی "مہر" نے کہا کہ وزارت خارجہ میں مغربی یورپی محکمے کے ڈائریکٹر جنرل نے شیرکلف کو بتایا کہ ایران کی جانب سے ان اقدامات کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا ہے جو اس کے کنٹرول اور سفارتی اصولوں سے باہر ہیں۔ تہران میں جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے مطابق ستمبر 2022 میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے ایرانی حکام نے 100 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں